مغربی ممالک کا شدت پسند لیبی تنظیم پر پابندی لگانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس، برطانیہ اور امریکا نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کمیٹی سے کہا ہے کہ وہ لیبیا کے اسلام پسند مسلح گروپ انصار الشریعہ کو القاعدہ سے تعلقات کی بناء پر اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی لسٹ میں شامل کرے۔

انصار الشریعہ بن غازی میں موجود امریکی سفارتی مشن پر ستمبر 2012 میں ہونے والے حملے میں کردار ادا کرنے کے نتیجے میں امریکا کی جانب سے دہشت گرد گروپ قرار دیا جا چکا ہے۔ امریکی سفارتی مشن پر اس حملے کے نتیجے میں لیبیا میں امریکی سفیر اور تین دیگر امریکی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

اقوام متحدہ کی لسٹ میں داخلے کا مطلب ہوگا کہ اس گروپ کے ارکان کے ویزا منسوخ، اثاثے منجمد اور ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی جائے گی اور ان اقدام کے ذریعے سے یہ گروپ اپنے مرکزی گروپ سے کٹ کر رہ جائے گا۔

فرانسیسی وزیر خارجہ لوران فابیوس نے ستمبر میں اقوام متحدہ کی ایک میٹنگ کے دوران کہا تھا کہ لیبیا کو تشدد کی دلدل میں مزید پھنسنے سے بچانے کے لئے اس گروپ پر پابندیوں کا اطلاق کردینا چاہئیے۔

سیکیورٹی کونسل کو کی جانے والی اس درخواست میں ان تینوں ممالک نے کہا ہے کہ انصار الشریعہ بن غازی اور انصار الشریعہ درنا کو بلیک لسٹ کیا جائے کیوںکہ ان دونوں گروپوں کے القاعدہ کی مقامی شاخ اور دوسرے شدت پسند گروپوں سے رابطے ہیں۔

درخواست سے کہا گیا تھا کہ سنہ 2012 سے بن غازی کی برانچ نے دہشت گردوں کی تیاری کے لئے متعدد ٹریننگ کیمپ چلا رکھے ہیں جن سے مالی میں دہشت گرد بھیجنے کے علاوہ ان کیمپوں کا بنیادی مقصد عراق اور شام میں موجود مسلح گروپوں کی مدد کرنا ہے۔

دستاویزات کے مطابق سنہ 2013 میں الجزائر کے ایک گیس کمپلیکس پر حملے میں شامل 12 دہشت گردوں کی ٹریننگ بن غازی مِن موجود انصار الشریعہ کے کیمپوں میں ہوئی تھی۔

دستاویزات کے مطابق اس گروپ نے حالیہ دنوں کے دوران لیبی سیکیورٹی فورسز پر بھی متعدد حملے کئے ہیں۔ اس کے علاوہ انصار الشریعہ درنا نے سال 2012 کے دوران امریکی سفارتی مشن پر حملہ کیا تھا اور اس کے درنا اور جبل الاخضر کے علاقے میں موجود ٹریننگ کیمپس سے عراق اور شام کے لئے جنگجو تیار ہورہے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق انصار الشریعہ درنا نے عراق اور شام کے مختلف علاقوں پر قابض انتہاپسند گروپ داعش سے وابستگی اختیار کرلی ہے۔ سیکیورٹی کونسل 19 نومبر تک اس تجویز کے خلاف اعتراضات اٹھا سکتی ہے۔

ادھر پیر کے روز لیبیا کی سرکاری فوج نے بن غازی کے مضافاتی علاقوں میں اسلام پسند ملیشیائوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ شروع کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں