.

فرانس ،لبنان میں سعودی رقم سے اسلحے کی ڈیل

فرانس لبنانی فوج کو3 ارب ڈالرز مالیت کا اسلحہ اور سازوسامان دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس اور لبنان کے درمیان سعودی عرب کی جانب سے مہیا کردہ تین ارب ڈالرز مالیت کی رقم سے اسلحے اور فوجی سازوسامان کی خریداری کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

دونوں ملکوں کے حکام نے سعودی دارالحکومت الریاض میں منگل کے روز معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔اس موقع پر سعودی حکام بھی موجود تھے۔اس معاہدے کے تحت فرانس لبنانی فوج کے لیے تین ارب ڈالرز مالیت کا اسلحہ اور دوسرا فوجی سازوسامان مہیا کرے گا تاکہ وہ پڑوسی ملک شام سے درآنے والے جنگجوؤں کا مقابلہ کرسکے۔

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس نے ایک بیان میں اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ سعودی امداد سے طے پائے اس سمجھوتے سے لبنانی فوج کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی اور اس سے لبنان کے اتحاد اور استحکام کی بھی ضمانت ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ ''اس ڈیل سے آرمی کو لبنان کو درپیش خطرے کے پیش نظر اپنے علاقے کے دفاع اور اس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی''۔انھوں نے اس معاہدے کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔فرانسیسی وزارت دفاع بدھ کو اس معاہدے کی تفصیل جاری کرنے والی ہے کہ فرانس لبنان کو سعودی رقم سے کون کون سے ہتھیار اور فوجی آلات مہیا کرے گا۔

فرانسیسی وزیردفاع ژاں وائی ویس لی ڈرائین نے اکتوبر میں پارلیمان کو بتایا تھا کہ ''اس معاہدے کے تحت لبنان کو زمینی ،فضائی اور بحری آلات مہیا کیے جائیں گے''۔ واضح رہے کہ سعودی عرب قبل ازیں بھی لبنانی فوج کو عسکری امداد کی مد میں ایک ارب ڈالرز دے چکا ہے۔

سعودی عرب اور فرانس کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں گذشتہ دوسال کے دوران نمایاں بہتری آئی ہے ۔دونوں ممالک شام میں جاری تنازعے کے حوالے سے ایک جیسا نقطہ نظر رکھتے ہیں اور وہ شامی صدر بشارالاسد کی اقتدار سے رخصتی چاہتے ہیں۔

لبنان نے سرکاری طور پر تو خود کو شام میں جاری خانہ جنگی سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کی طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے صدر بشارالاسد کی حمایت میں اپنے ہزاروں جنگجو شام میں بھیجے ہوئے ہیں جو اس وقت شامی فوج کے ساتھ مل کر باغیوں اور جنگجو گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔