کینیڈین شہریت: ایک سے زائد شادی والوں کا راستہ بند

اپنی ثقافت کے خلاف لوگوں کو سخت پیغام دینا چاہتے ہیں: کینیڈا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کینیڈا نے ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے والوں کو اپنے ہاں شہریت کے لیے قبول کرنے پر پابندی لگانے کا سوچنا شروع کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شمالی امریکا کا اہم ملک کینیڈا ان ملکوں شامل ہے جس کی شہرییت حاصل کرنے کے لیے کوشاں لوگوں کی تعداد دنیا بھر عام طور پر زیادہ ہونے کا رجحان پایا جاتا ہے۔

لیکن کینیڈ انے اپنے مذہبی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے ایسے لوگوں کی امیگریشن کے لیے حوصلہ افزائی نہ کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

کینیڈا کے امیگریشن سے متعلقہ وزیر کے مطابق'' جو بھی کثیر ازدواجی ثقافت اور بربری ثقافت کے حامل لوگ ہوں گے ان کی کینیڈا میں امیگریشن پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ ''

بتایا گیا ہے کہ یہ تحریک غیرت کے نام پر پچھلے برسوں میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر سامنے لائی گئی ہے۔ اس طرح کے واقعات میں مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے لوگ ملوث دیکھے گئے ہیں۔

وزیر کرس الگزینڈر نےاپنے ایک بیان میں کہا ہے '' ہم اپنے ملکی قوانین کو مستحکم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ بربری ثقافت سے تعلق رکھنے والوں کی آمد کی حوصلہ شکنی کر سکیں۔ ''

اس تحریک کی کامیابی کی صورت میں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی کے شہری زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ انہی خطوں کے افراد، شادی شدہ جوڑے یا خاندان کینیڈا ک شہریت کے لیے زیادہ کوشاں ہوتے ہیں۔

تاہم کینیڈا میں امیگریشن وزیر نے ایک سے زائد گرل فرینڈز اور بوائے فرینڈز رکھنے والیوں یا شادی سے پہلے اکٹھے رہنے اور بچے جننے والیوں کے بارے میں اظہار نہیں کیا ہے کہ ان کے لیے بھی کوئی قانون بنایا جا رہا ہے کہ نہیں۔

وزیر موصوف نے کہا ہم ایسے لوگوں کوایک سخت پیغام دینا چاہتے ہیں جو کینیڈا آکر یہاں کی روایات اور ثقافت کے برعکس رہنا چاہتے ہیں اور انسانوں سے ان کے انفرادی حقوق چھیننے کی بات کرتے ہیں۔ نئے قانون کے تحت جبری شادیوں اور کم سنی کی شادیوں کا بھی نوٹس لیا جانے کا امکان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں