.

یمنی صدر کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا: امریکا

علی عبداللہ صالح کی جماعت کا امریکا پر مداخلت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں اس پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح پر اقتدار سے الگ ہونے کے لیے دباو ڈالا تھا۔ علی عبداللہ صالح کو اقوام متحدہ نے ملک نہ چھوڑنے کی صورت میں پابندیاں عاید کرنے کی دھمکی دی تھی۔

علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس نے 2012 میں حکومت سے الگ ہونے والے علی عبداللہ صالح کو امریکی سفارخانے سے دھمکی ملی تھی کہ '' اقتدار چھوڑو ورنہ اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرو۔ ''

تاہم امریکی ترجمان نے اس امر کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ''صدر علی عبداللہ صالح کو دھمکیاں دینے کی بات مکمل طور پر غلط ہے۔''

امریکی ترجمان کے مطابق امریکی سفیر اور جنرل پیپلز کانگریس کے ارکان کے درمیان ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی، جس میں انہیں امریکا کی طرف سے دھمکی دی گئی ہو۔''

جنرل پیپلز کانگریس امریکی سفارت خانے کی طرف سے ایسی کوشش کو یمن کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے اور کہا ہے کسی ملک کو مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔''

علی عبداللہ صالح کی جماعت کا کہنا ہے کہ اسے امریکی سفارت خانے نے بالواسطہ طور پر سابق صدر علی عبداللہ صالح کو پیغام بھیجا تھا۔

یہ صورت حال نیو یارک میں سفات کاروں کی طرف سے یہ کہے جانے کے بعد پیش آئی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل علی عبداللہ صالح پر پابندیاں عاید کرنے والی ہے۔

امریکا کی طرف سے تیار کردہ ایک تجویز کی بنیاد پر علی صلح اور ان کے دو ساتھیوں پر ویزا کی پابندی کے علاوہ اثاثہ جات پر بھی پابندی کے لیے کہا گیا ہے۔

اس سلسلے میں سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی نے جمعرات کے روز پابندیاں عاید کرنے کی تجویز پر غور کیا ہے۔ جمعہ کی شام تک اس پر اعتراض اٹھایا جا سکے گا اور اس کے بعد پابندیاں عاید کرنے کے حوالے سے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

علی عبداللہ صالح 1990 میں یمن کی صدارت پر فائز ہوئے اور 2012 تک فائز رہے ہیں۔ ان دنوں یمن میں حوثی باغیوں نے صنعا پر عملا قبضہ کر رکھا ہے، جبکہ القاعدہ کا چیلنج بھی درپیش ہے۔