.

آئی سی سی کا اسرائیل پر مقدمہ چلانے سے انکار

فریڈم فلوٹیلا پر حملہ جنگی جرم،مگر مقدمہ نہیں چلے گا:پراسیکیوٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے اسرائیلی فوج کے خلاف مئی 2010ء میں غزہ جانے والے فریڈم فلوٹیلا پر حملے کے الزام میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے سے انکار کردیا ہے۔

اسرائیلی کمانڈوز کے فریڈم فلوٹیلا پر حملے میں دس ترک رضاکار جاں بحق ہوگئے تھے مگر آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اس حملے کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب تو کیا گیا تھا اور اس کی ٹھوس وجوہ موجود ہیں لیکن اس کے باوجود آئی سی سی کی چیف پراسیکیوٹر فتوح بن سودہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی ایسی تحقیقات نہیں کی جائیں گی کہ جس کے بعد جنگی جرائم کا ممکنہ مقدمہ چلایا جا سکے کیونکہ اسرائیلی کمانڈوز کا حملہ سنگین نوعیت کا نہیں تھا۔

بن سودہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس وقت تک دستیاب معلومات کی روشنی میں یہ یقین کرنے کے لیے معقول وجہ موجود ہے کہ جہاز ماوی مرمارا پر حملے کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا تھا''۔

''تاہم تمام متعلقہ مواد کا بڑی احتیاط سے جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ یہ تمام واقعہ اتنی مناسب اور شدید نوعیت کا نہیں ہے کہ جس سے آئی سی سی کے مزید اقدام کا جواز مل سکے''۔ان کا مزید کہنا تھا۔

یادرہے کہ ترکی کے امدادی رضاکاروں نے بحری جہازوں پر مشتمل فریڈم فلوٹیلا کے ذریعے اسرائیلی محاصرہ توڑنے اور غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے جانے کی کوشش کی تھی لیکن اسرائِیلی بحریہ کے کمانڈوز نے 31 مئی 2010ء کو اس پر دھاوا بول دیا تھا اور ان کی فائرنگ سے نوترک رضاکار موقع پر جاں بحق ہوگئے تھے اور ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا تھا۔

اسرائیلی کمانڈوز کے اس حملے کے بعد ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی اور سیاسی تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور ترکی نے تل ابیب سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا، اس نے صہیونی ریاست سے واقعے پر معافی اور جاں بحق ہونے والے لواحقین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔اس کے علاوہ غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا لیکن اسرائیل نے ان مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور اس کے اس منفی اور دھونس والے رویے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات بحال نہیں ہوسکے ہیں۔