.

افغانستان میں ایرانی سرمایہ کار فرموں کو امریکی معاونت حاصل

ایران سے تعاون امریکا کی بڑی مجبوری بن گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے تہران کے خلاف کئی سال سے اقتصادی پابندیاں عاید ہیں مگر بعض اوقات امریکیوں کو ان پابندیوں کے باعث خود ہی سنگین نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مواقع پر امریکا، ایرانی تجارتی اداروں کے ساتھ تعاون پر مجبور دکھائی دیتا ہے۔

امریکی اخبار ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ تہران پر اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے باوجود امریکا، افغانستان میں ایرانی سرمایہ کار کمپنیوں کی معاونت کرتا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے افغانستان سمیت دیگر خطوں میں ایرانی تجارتی کمپنیوں کے ساتھ لین دین پر پابندی کی مہمات چلائی جاتی رہی ہیں محکمہ دفاع ’پینٹاگان‘ کی افغانستان کی حد تک پالیسی اس کے برعکس رہی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے افغانستان میں معاشی ابتری کے خاتمے میں مدد فراہم کرنے کے لیے ایرانی سرمایہ کار فرموں کو بھی سرمایہ کاری کی مکمل اجازت دے رکھی ہے۔

اخبار لکھتا ہے "کہ افغانستان میں معاشی استحکام کے لیے ایران جیسے پڑوسی ملکوں کی تجارتی کمپنیوں کو سرماریہ کاری کرنے کی اجازت دینا مجبوری ہے۔ اسی مجبوری کے تحت پینٹاگان کی جانب سے ایرانی سرمایہ کاری کو نہ صرف بہ خوشی قبول کیا گیا بلکہ تہران کی کاروباری فرموں کو افغانستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جاتی رہی ہے۔"

وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا کہ "اخبار کی ٹیم نے افغانستان میں امریکی سرپرستی میں ایرانی کاروباری کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے ٹھوس شواہد ملے ہیں۔ پچھلے دو سال میں ایران کی درخواست پر ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے پرمٹ جاری کیے گئے تھے۔"

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع کے زیر انتظام ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو امریکی حکومت کی اجازت سے ایرانی سرمایہ کار کمپنیوں کو افغانستان میں اپنا سرمایہ لگانے کے معاملات کی اجازت دیتی اور اس کی مکمل نگرانی کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور مغربی ممالک نے پچھلے تیرہ سال میں افغانستان میں اربوں ڈالر کے اخراجات کیے ہیں۔ مغرب اپنے اس خسارے کو پورا کرنے کی کوشش میں ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے افغانستان میں صرف امریکی اور مغربی تجارتی فرموں کو سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے اور دوسرے ممالک کی تجارتی فرموں پر پابندی لگائی جائے۔ تاہم ایران کی سرمایہ کار کمپنیوں کے ساتھ تعاون خود امریکیوں کی بھی مجبوری بن چکی ہے۔

امریکی اخبار نے ایران پر پابندیوں کے باوجود تجارتی شعبے میں تہران کے ساتھ نرمی برتنے کی صدر اوباما کی پالیسی کو سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہ گیا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کے اعلانات کے باوجود صدر اوباما کی طرف سے ایران کے حوالے سے نرمی پر مبنی پالیسی اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن خود ہی ایران کے لیے آسانی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان، عراق اور شام کے بحران امریکا کو ایران سے تعاون پر مجبور کر رہے ہیں۔