.

امریکا لیبیا کے متحارب گروپوں پر پابندیاں لگائے گا

لیبیا میں جاری مداخلت کا ردعمل منفی ہو گا: اعلی امریکی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے لیبیا میں باہم متحارب گروہوں کے خلاف پابندیاں لگانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ لیبیا میں جاری لڑائی کو خطے کی طاقتیں ایندھن فراہم کرنے پر امریکی حکام کو تشویش ہے۔

معمر قذافی کی تین سال قبل اقتدار سے علیحدگی کے بعد سے لیبیا میں بیرونی مداخلت نے لیبیا میں جنگی آگ کو بڑھاوا دے رکھا ہے۔ اس میں قطر اور کسی حد تک ترکی کا نام لیا جاتا ہے کہ یہ دونوں ملک اسلام پسندوں کی حمایت کرتے ہیں جبکہ مصر اور متحدہ عرب امارات سیکولر گروپوں کی مدد کرتے ہیں۔

واضح رہے امریکی پابندیاں اقوام متحدہ کی ان پابندیوں کے علاوہ ہوں گی جو اقوام متحدہ متحارب گروپوں پر پابندیاں عاید کر کے انہیں امن مذاکرات کی طرف لانا چاہتا ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے ان گروپوں کے خلاف امکانی پابندیوں کی خبریں پہلے ہی سامنے آچکی ہیں جبکہ امریکا کی متوقع پابندیوں کی خبر پہلی بار سامنے آئی ہے۔

امریکی حکام نے فی الحال متوقع طور پر پابندیوں کا نشانہ بننے والے گروپوں کا نام ظاہر کرنے کے علاوہ ان پابندیوں کی تفصیل جاری کرنے سے معذرت کی ہے۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کی امکانی پابندیوں کے حوالے سے یہ بات منظر عام پر آ چکی ہے کہ اس کی طرف سے خانہ جنگی میں شامل افراد اور گروپوں کو ٹارگٹ کیا جائے گا نہ کہ ان کے غیر ملکی سرپرستوں کو۔ اقوام متحدہ ان افراد اور گروپوں کے اثاثہ جات اور بنک اکاونٹس منجمد کرنے کے علاوہ سفر پر پابندی عاید کرے گا۔

لیبیا پچھلے کئی سال سے سخت افراتفری کا شکار ہے۔ اسی وجہ سے اس کے ہاں ایک کے بجائے دو الگ الگ اسمبلیاں کام کر رہی ہیں۔ جبکہ امریکا اور مغربی دنیا سمیت عرب دنیا میں تسلیم کی جانے والی حکومت دارالحکومت طرابلس لیبیا کے مشرقی سرحد کے نزدیک ایک قصبے کے ہوٹل سے چلائی جا رہی ہے۔

اسلام پسند گروپ دارالحکومت کے علاوہ دوسرے بڑے شہر بنغازی پر بھی قابض ہیں۔ ان اسلام پسندوں کے لیبیا کے مغربی حصے پر زیادہ اثرات ہیں۔

امریکی حکم نے اقوام متحدہ کے پابندیاں عاید کرنے کے منصوبے کے باوجود اس الگ سے کی جانے والی امریکی کوشش کے بارے میں کہا '' اقوام متحدہ کی طرف سے پابندیاں لگانے کا عمل سست ہے نیز صرف اقوام متحدہ کی پابندیوں سے وہ تمام پابندیاں نہیں لگ سکیں گی جو امریکا چاہتا ہے۔''

امریکی حکام سابق فوجی جرنیل خلیفہ ہفتر کی ملیشیا کو مصر کے لیے پراکسی وار لڑنے والی سمجھتے ہیں۔ سعودی عرب بھی مصری صدر السیسی کا حامی ہونے کی وجہ سے لیبیا میں مصر اور متحدہ عرب امارات کی حمایت کرتا ہے۔

اس کے مقابلے میں قطر نے لیبیا کے اسلامی انتہا پسندوں کو اسلحہ دینے کا کھلے عام اعتراف کیا ہے، جبکہ ترکی اخلاقی حمایت کو تسلیم کرتا ہے۔ امریکا کے خیال میں لیبیا میں کسی بھی طرح کی مداخلت منفی رد عمل کا ذریعہ بن سکتی ہے۔