.

براک اوباما کا ایرانی سپریم لیڈر کے نام مکتوب

وائٹ ہائوس کا تبصرے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ذرائع ابلاغ نے اپنی حکومت کی جانب سے عراق اور شام میں سرگرم دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے خلاف جنگ کے لیے ایران سے تعاون کی درخواست نہ کرنے کی دعوے کی قلعی کھول دی ہے۔ صف اول کے ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر براک اوباما نے امسال اکتوبر میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نام ایک مکتوب ارسال کیا تھا جس میں ان سے داعش کے خلاف جنگ میں ‌تعاون کی درخواست کی گئی تھی۔

اخبار ’’وال اسٹریٹ جنرل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق صدر اوباما کا یہ مکتوب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ ہی عرصہ قبل انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ داعش کی سرکوبی کے لیے انہیں ایران کے تعاون کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس سلسلے میں امریکا نے تہران سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

اس خبر پر وائٹ ہائوس نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ وائٹ ہائوس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا کہ ان کے ملک کی ایران کے بارے میں‌ پالیسی تبدیل نہیں ‌ہوئی ہے۔ جب ان سے صدر اوباما کے خامنہ ای کے نام مکتوب کےبارے میں ‌سوال کیا گیا تو انہوں‌ نے کہا کہ صدر مملکت کی حیثیت سے وہ عالمی رہ نمائوں کو خطوط ارسال کرتے رہتے ہیں۔ ان کے مکتوبات پر تبصرے کی کوئی ضرورت نہیں۔