.

یمن کے سابق صدر اور حوثی رہنماوں پر عالمی پابندیاں

علی صالح کے حامیوں کا صنعاء میں امریکا کے خلاف مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح اور حکومت مخالف حوثی باغیوں کے دو سینئر رہنماوں پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے پابندی عاید کر دی ہے۔ ان پر عرب بہاریہ سے متاثر ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں بننے والی عبوری حکومت کو بدامنی کا شکار بنانے کا الزام ہے۔

علی عبداللہ صالح پر یمن میں جاری حالیہ طوائف الملوکی کو ہوا دینے کا الزام عاید کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے مبینہ طور پر صنعا اور دوسرے شہروں پر حوثی باغیوں کے کنٹرول میں بھی معاونت کی تھی۔ وہ 2012ء میں اپنے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد مستعفی ہو گئے تھے لیکن اب ایک مرتبہ پھر وہ دوبارہ برسراقتدار آنے کی امید میں حوثی باغیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

یمنی رہنماوں پر پابندی کی منظوری دینے والے یو این سیکیورٹی کونسل اجلاس کی صدارت لیتھوینا کے سفیر ریمونڈا مرموکیٹائی کر رہے تھے۔ کونسل کے پندرہ ارکان نے اتفاق رائے سے علی عبداللہ صالح اور حوثی مسلح باغی رہنماوں پر پابندی کی منظوری دی۔

علی عبد اللہ صالح یمن کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے الزامات کی تردید کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کی سیاسی جماعت نے خبردار کیا ہے کہ سابق صدر کے خلاف کسی قسم کی پابندی یا ایسے اقدام کی دھمکی کے ملک میں جاری سیاسی عمل پر منفی نتائج نکلیں گے۔

صالح کے حامیوں کا امریکا مخالف مظاہرہ

یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے ہزاروں حامیوں اور شیعہ حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا میں امریکا کے خلاف جمعہ کو ریلی نکالی ہے اور سابق صدر اور باغی لیڈروں کے خلاف اقوام متحدہ کی ممکنہ پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

صنعاء میں امریکا کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے علی صالح اور دو حوثی لیڈروں پر پابندیاں عاید کرنے کے لیے رکن ممالک کو دی گئی ڈیڈ لائن سے قبل کیا گیا ہے۔ ان تینوں یمنی شخصیات پر پابندیوں کے لیے سلامتی کونسل کے تمام پندرہ رکن ممالک کی جانب سے منظوری ضروری ہے۔

مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر امریکا کے خلاف نعرے درج تھَے اور وہ صنعا میں متعین امریکی سفیر سے بھی ملک سے چلے جانے کا مطالبہ کررہے تھے۔سابق یمنی صدر کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس نے اسی ہفتے کہا تھا کہ علی صالح کو صنعا میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے ایک الٹی میٹم موصول ہو اتھا۔اس میں کہا گیا تھا کہ وہ جمعہ تک صنعاء سے چلے جائیں ورنہ ان کے خلاف پابندیاں عاید کر دی جائیں گی۔

لیکن امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ان دعووں کو مکمل طور پر غلط قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان ایجر واسکوئز نے کہا ہے کہ''امریکی سفیر اور جنرل پیپلز کانگریس کے عہدے داروں کے درمیان ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے اور نہ اس طرح کا کوئی بیان جاری کیا گیا ہے''۔

واضح رہے کہ علی عبداللہ صالح خود بھی زیدی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔حوثی باغی ان کے دور صدارت میں ان کی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرتے رہے تھے لیکن اب یہ دونوں سابق حریف اقتدار پر قبضے لیے اتحادی بن چکے ہیں۔

'العربیہ' نیوز نے گذشتہ ماہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ علی عبداللہ صالح نے حوثی باغیوں کی صنعا اور دوسرے شہروں میں عمل داری قائم کرنے کے لیے فعال اندازمیں مدد کی تھی اور انھوں نے یہ سب کچھ دوبارہ برسراقتدار آنے کی امید میں کیا تھا۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ علی صالح اور حوثی لیڈروں کے درمیان ایک خفیہ ملاقات ہوئِی تھی جس میں انھوں نے علاقائی طاقتوں اور خاص طور پر سعودی عرب کو یمن میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں اپنے مؤقف کے مطابق آگاہ کرنے اور انھیں اپنا ہم نوا بنانے سے اتفاق کیا تھا۔

حوثیوں نے مبینہ طور پر علی صالح سے یہ کہا تھا کہ وہ اپنے ایسے معاونین کو سعودی عرب روانہ کریں جن کی وہاں خوب جان پہچان ہو اور وہ سعودی قیادت کو دھوکا دینے کے انداز میں یہ باور کرائیں کہ اگر وہ سابق یمنی صدر پر اعتماد کریں تو حوثیوں کا کنٹرول ختم کیا جا سکتا ہے اور انھیں اقتدار سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

اس سازش کا بنیادی مقصد حوثیوں کے مخالفین میں اعتماد پیدا کرنا ہے اور ان مخالفین کو ممکنہ طور پر سعودی عرب کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کا دوسرا بڑا مقصد ایسی صورت حال پیدا کرنا ہے جو حوثیوں اور علی عبداللہ صالح دونوں کے لیے سود مند ہو اور ان کے اقتدار کی راہ ہموار ہو سکے۔