.

امریکا، مزید 1500 فوجی عراق بھیجے گا: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے عراق میں سرگرم اسلامی ریاست المعروف داعش کے جنگجووں کے خلاف جاری آپریشن میں مقامی حکومت کی مدد کے لیے اضافی پندرہ سو امریکی فوجی روانہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کیے ایک بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اضافی پندرہ سو امریکی فوجی عراق تعینات کیے جائیں گے۔ یوں اس شورش زدہ ملک میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریباً تین ہزار ہو جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ غیر جنگی مشن پر مشرق وسطیٰ کے اس ملک میں روانہ کیے جانے والے امریکی فوجی کسی براہ راست عسکری کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے بلکہ یہ صرف مقامی فورسز کی تربیت اور مشاورت کا کام کریں گے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہاں مزید فوجی روانہ کرنے کا فیصلہ بغداد حکومت کی طرف سے درخواست کے بعد کیا گیا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق عراق کے شمالی، مغربی اور جنوبی علاقوں میں مختلف تربیتی مراکز قائم کیے جائیں گے، جہاں عراقی فوج کی 9 بریگیڈز جبکہ کرد پیش مرگہ فورسز کی تین بریگیڈز کو تربیت فراہم کی جائے گی۔

امریکی فوجی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کی بغاوت کو کچلنے کے لیے یہ فوجی عراقی فورسز کو مشاورت بھی فراہم کریں گے۔ بتایا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے رابطہ کاری کے نئے سینٹرز بھی بنائے جائیں گے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا، ’’امریکی فوجی براہ راست لڑائی میں حصہ نہیں لیں گے لیکن وہ بہتر مقامات پر تعینات ہوں گے تاکہ لڑائی میں شریک عراقی فورسز کے ساتھ فوری تعاون کر سکیں۔‘‘

یاد رہے کہ فی الحال امریکی فوجیوں نے بغداد اور اربیل میں دو مرکزی رابطہ مراکز بنا رکھے ہیں، جہاں سے کرد اور عراقی فورسز کو فوری طور پر عسکری مشاورت فراہم کی جاتی ہے۔

داعش کے جنگجوؤں کی پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں صوبہ الانبار میں تعینات عراقی فوج کی پانچ بریگیڈز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس علاقے پر قابض جنگجوؤں نے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق چھ ہزار عراقی فوجیوں کو ہلاک بھی کر دیا ہے جبکہ طبی ذرائع نے یہ تعداد کہیں زیادہ بتائی ہے۔

دوسری طرف وائٹ ہاؤس کے مطابق عراق اور شام میں جاری امریکی افواج کی کارروائیوں کے اخراجات کے لیے کانگریس میں 5.6 بلین امریکی ڈالر کی رقم مختص کرنے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ جب امریکی صدر براک اوباما نے عراق اور شام میں فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا تو واضح کیا گیا تھا کہ کوئی امریکی فوجی کسی زمینی کارروائی میں ہرگز شریک نہیں ہو گا۔