.

امریکا: اسلامی قوانین کے تحت مقدمہ سننے کا راستہ بند

ریاست الاباما میں بل پر ووٹنگ، لبرل امریکیوں کی طرف سے مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مریکی ریاست الاباما میں ووٹ کے ذریعے ریاستی عدالتوں میں غیر ملکی قوانین کے عملداری کو روک دیا ہے۔ یہ کوشش اس بنیاد پر حفظ ماتقدم کے طور پر کی گئی ہے کہ ریاستی عدالت میں اسلامی شرعی قوانین فیصلوں پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔

ریاست میں ہونے والی اس ووٹنگ کو ایک ترمیم کے طور پر لیا جا رہا ہے اس میں براہ راست اور متعین الفاظ میں اسلامی قوانین کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس نئے ترمیمی بل کو چار سال قبل ریپبلکن رہنما گرالڈ ایلن نے ترمیم برائے شرعی قانون کا نام دیا تھا۔

تاہم امریکی سپریم کورٹ نے 2011 میں اس ترمیمی بل کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے مطابق'' یہ ترمیمی بل انسانوں کے مذہبی آزادی اور حقوق پر قدغن لگاتا ہے۔ ''

اس ترمیمی بل پر مسلمانوں اور لبرل طبقات نے تنقید کی اور کہا '' اس کا نشانہ اسلام ہے۔'' برمنگھم اسلامی سوسائٹی کے صدر اشفاق توفیق کا اس بارے میں کہنا ہے'' ایسی کوئی شہادت نہیں ہے کہ مسلمان امریکی عدالتوں میں اسلامی قوانین کے مطابق فیصلے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، ہم اپنے ملک کے قوانین کے مطابق عمل کرتے ہیں۔''

الاباما کریچئین کولیشن '' کے سربراہ ڈاکٹر رینڈی برنسن نے کہا '' میں اس بل کے پیچھے چھپے جذبات کو سمجھ سکتا ہوں۔، یہ وقت اور کوششوں کو ضائع کرنے کی ایک غیر معمولی کوشش ہے۔''

رینڈی برنسن نے مزید کہا '' اس بل کا صاف مطلب ہے کہ ہم دوسرے ملکوں سے کہہ رہے ہیں کہ ہم تمہارے قوانین کا احترام نہیں کرتے ہیں ۔''

اس کے بر عکس اٹارنی ایرک جانسن نے کہا ہے '' یہ بل جج حضرات کے لیے رہنمائی کا ایک طریقہ ہے۔ '' واضح اٹارنی ایرک جانسن نے ہی اس بل کی ڈرافٹنگ کی ہے۔