.

اوباما پہلی خاتون سیاہ فام اٹارنی جنرل کی تقرری کرینگے

تقرری عجلت میں نہ کی جائی، جنوری میں کی جائے: ریپبلکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر اوباما نے پہلی سیاہ فام امریکی خاتون لوریٹا لینچ کو اٹارنی جنرل کے عہدے پر تعینات کرنے کا فوری فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ حالیہ وسط مدتی انتخابات کے باعث اوباما انظامیہ کے لیے اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔

وسط مدتی انتخاب کے دوران سینیٹ میں اکثریت پا لینے والی ریپبلکن پارٹی کا موقف ہے کہ یہ تقرری اگلے سال تک موخر رکھی جائے۔

واضح رہے امریکی سینیٹ کے نئے منتخب ہونے والے ارکان ماہ جنوری میں سینیٹ میں ا پنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جس کے بعد اوباما کے لیے نئی اٹارنی جنرل کے لیے سینیٹ سے توثیق کرانا مشکل ہو جائے گا۔

امریکا کے پہلے سیاہ فام صدر اوباما اپنی مدت صدارت کے دوران اٹارنی جنرل کے عہدے پر دوسری سیاہ فام شخصیت کو مقرر کرنے والے ہیں۔ اس امر کی تصدیق صدر اوباما کے پریس سیکرٹری جاش ایرنیسٹ نے کر دی ہے۔

صدر اوباما نے اس سے پہلے 2009 میں قانون دان ایرک ہولڈر کو امریکا کا پہلا سیاہ فام اٹارنی جنرل مقرر کیا تھا، جو رواں سال ماہ اگست تک اپنے عہدے پر موجود رہے۔

لوریٹا لینچ بنک فراڈز، اور کرپشن سے متعلق مقدمات کو سمجھنے کے علاوہ بنیادی انسانی حقوق کے معاملات کے حوالے سے تجربے کی شہرت رکھتی ہیں۔ انہوں نے حالیہ برسوں کے دوران امریکا میں دو سیاہ فام امریکی نوجوانوں کے بہیمانہ قتل کے واقعات کے خلاف بھی کافی نام پایا تھا۔

ان دنوں لوریٹا لینچ نیویارک سٹی میں فیڈرل اٹارنی کے طور پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔ 55 سالہ لوریٹا اس عہدے پر سابق صدر بل کلنٹن کے دور میں بھی تعینات رہی ہیں۔

امریکی وائٹ ہاوس کے ذرائع کے مطابق وائٹ ہاوس میں اوباما کی ٹیم ممبر وائٹ ہاوس کی سابق مشیر کیتھی ریوملر کو اس منصب کے لیے نامزد کرنا چاہتے تھے لیکن ریپبلکن کی طرف سے ان کی زیادہ مخالفت کا خدشہ تھا۔

بعض ڈیموکریٹ سینیٹرز کا خیال ہے کہ موجودہ ارکان کے ساتھ سینیٹ کے آخری اجلاس میں بھی اٹارنی جنرل کی توثیق کرانا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

متوقع امریکی اٹارنی جنرل لوریٹا شمالی کیرولینا میں پلی بڑھی ہیں اور ایک ایسے لائبریرین کی بیٹی ہیں جو مسیحی مذہب کے حوالے سے اہمیت کا حامل تھا۔ اس ناطے لوریٹا کے والد نومود بچوں اور نو مسیحیوں کو بپتسمہ دینے کی ذمہ داری انجام دیتے رہے ہیں۔