.

سی آئی اے: سفارتکاروں کو یرغمال بنائے کے بارے انکشافات

35 سال بعد کیے گئے انکشافات سے ہالی وڈ فلم کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حساس ادارے سی آئی اے نے 35 سال پہلے ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے امریکی سفارتی عملے کے 52 ارکان کو یرغمال بنانے کے متعلق حقائق سے پردہ اٹھا کر ہالی وڈ کی اس موضوع پر بنائی گئی فلم کی کہانی کی قلعی کھول دی ہے۔

ہالی ووڈ نے یرغمال بنائے گئے امریکیوں پر 444 دنوں کے دوران بیتنے والے واقعات کو 2012 میں ''آرگو'' نام سے ایک فلم کے طور پر پیش کیا تھا۔

واضح رہے ایرانی شاہ رضا شاہ پہلوی کے اقتدار کے 1979 میں خمینی انقلاب کے نتیجے میں خاتمے کے بعد سخت امریکا مخالف ماحول پیدا کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں 4 نومبر کو مسلح ایرانی نوجوانوں نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے سفارتی عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔

چار نومبر کو اس واقعے کو 35 سال مکمل ہونے کے حوالے سے سی آئی اے نے بعض ایسے حقائق ٹویٹ کیے ہیں جنہیں مبینہ طور پر ہالی وڈ کی فلم میں غلط انداز میں پیش کیا گیا تھا۔

امریکی سی آئی اے نے 20 سے زائد کیے گئے ٹویٹس میں ایسے حقائق کا انکشاف کیا ہے جو ماضی میں کبھی سامنے نہیں آئے تھے۔ نہ ہی انہیں فلم میں درست طور پر پیش کیا گیا تھا۔

ہالی ووڈ کی یہ فلم معروف اداکار بین ایفلیک نے خود ہی ڈائریکٹ کی، خود ہی اس میں اداکاری کی اور اس کی کہانی بھی خود لکھی تھی۔

سی آئی اے کے ٹوئٹرز کے ذریعے سامنے آنے والے حقائق کی وجہ سے فلم کے ذریعے عام لوگوں میں پختہ ہو جانے والی باتوں کی بھی تردید کر دی گئی ہے۔

فلم میں ایران میں رہ جانے والے چھ سفارتکاروں کی فرار کے حوالے کے کوشش سے متعلق بیان کردہ کہانی پر سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ کہانی میں بتایا گیا تھا کہ اس دوران ایرانی پاسداران انقلاب سو رہے تھے۔

فلم میں امریکی دستاویزات تک ایرانی پاسداران کی رسائی کے بارے میں بھی اس فلمی کہانی کی تردید کی گئی ہے۔ فلم کو سی آئی کے 20 سے زائد ٹویٹس میں مبالغے پر مبنی قرار دیا گیا ہے اور بہت ساری باتوں کی تردید کی گئی ہے۔