.

سابق صدر کی جماعت اور حوثی یمنی حکومت سے الگ

صدر منصور ھادی پارٹی عہدوں سے فارغ کر دیئے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں کئی ماہ کی سیاسی کشیدگی کے خاتمے کی تازہ کوششیں سابق صدر علی عبداللہ صالح اور اہل تشیع مسلک کے حوثیوں کے غیر لچک دار رویے سے ایک بار پھر ناکام ہو گئی ہیں۔ سابق صدر علی عبداللہ صالح اورحوثیوں نے صدر عبدہ ربہ منصور ھادی کی تشکیل کردہ ٹیکنوکریٹ حکومت میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق صدر علی عبداللہ صالح نے اپنی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ صدر ھادی کی تشکیل کردہ حکومت میں شمولیت سے انکار کر دیں۔

ادھر دوسری جانب حوثیوں نے بھی عدم تعاون کی پالیسی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ھادی نے جن لوگوں کو ٹیکنوکریٹ کی حکومت میں شامل کیا ہے ان کی اکثریت بدعنوان اور نااہل ہے، جب تک نئی کابینہ میں شامل کیے گئے نا اہل افراد کو نکالا نہیں جاتا حوثی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ کو یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی نے ٹیکنوکریٹ پر مشتمل ایک قومی حکومت کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ صدرکی جانب سے صلاح مشورے کے بعد نئی کابینہ میں ٹیکنوکریٹ کو شامل کیا گیا تھا۔ نئی کابینہ میں مجموعی طور پر 35 وزرتیں رکھی گئی ہیں۔ امریکا اور عرب ممالک نے نئی حکومت کی تشکیل کا خیر مقدم کیا تھا تاہم حوثیوں کا کہنا ہے کہ صدر ھادی نے نئی حکومت میں بھی کرپٹ اور نااہل لوگوں کو شامل کیا ہے۔

ادھر صدر سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت پیپلز جنرل کانگریس نے صدر عبد ربہ ھادی کو پارٹی عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ پیپلز کانگریس کے ایک ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صدر عبد ربہ منصور ھادی کے پاس پارٹی کے نائب صدر اور سیکرٹری جنرل کے جو عہدے تھے وہ واپس لے لیے گئے ہیں۔ پارٹی نے جنوبی یمن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر احمد عبید دغر کو نائب صدر جبکہ عازف الزوکہ کو سیکرٹری جنرل مقرر کیا ہے۔