.

شام: داعش کا تیسرا آسٹریلوی جنگجو ہلاک

اب تک تقریبا 70 آسٹریلوی شام اور عراق میں برسرپیکار ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اطلاعات کے مطابق شام اور عراق کے مختلف علاقوں میں سرکاری افواج کے ساتھ جنگ میں مصروف انتہاپسند گروپ دولت اسلامی عراق و شام [داعش] کی صفوں میں شامل تیسرا آسٹریلوی جنگجو شام میں ایک معرکے کے دوران ہلاک ہوگیا۔

عالمی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق آسٹریلوی وزارت خارجہ نے اس خبر کی تصدیق کی کوشش کررہے ہیں مگر ان کو ایسا کرنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹس میں اس شخص کا نام نہیں بتایا گیا مگر اسٹریلوی اخبار 'سن ہیرالڈ' کے مطابق اس کا تعلق شمال مغربی سڈنی سے ہے اور وہ شادی شدہ اور کئی بچوں کا باپ ہے۔

وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا "شام اور عراق میں سیکیورٹی حالات کے انتہائی مخدوش ہونے کی وجہ سے ان دونوں ممالک میں کونسلر سروسز میسر نہیں ہیں۔"

یہ خبر داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کے اتحادی ممالک کی بمباری کے نتیجے میں زخمی ہونے کی خبر کے بعد سامنے آئی ہے۔ ابوبکر بغدادی کے زخمی ہونے کی خبر العربیہ نیوز نے قبائلی ذرائع کے حوالے سے دی تھی۔

امریکا اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کرسکا ہے کہ ابوبکر بغدادی موصل کے نزدیک ہونے والے اس اجتماع میں موجود تھا جس پر اتحادی طیاروں نے بمباری کی ہے۔

آسٹریلوی حکومت نے غیرملکی جنگجوئوں کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کا رخ کرنے کے ردعمل کے طور پر اکتوبر میں ایک قانون پاس کیا ہے جس میں دہشت زدہ ممالک کا سفر کرنے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

آسٹریلوی حکام کو شک ہے کہ تقریبا 70 آسٹریلوی شہری ان ممالک کا رخ کر چکے ہیں جبکہ آسٹریلیا ہی میں موجود تقریبا 100 افراد نے ان کو بھرتی اور ان کے سفر کی فنڈنگ کی ہے۔

جن افراد نے سفر کیا ہے ان میں 20 جنگجو آسٹریلیا واپس آچکے ہیں جبکہ مزید 73 افراد کو داعش میں شمولیت سے روکنے کے لئے ان کے پاسپورٹ ضبط کرلئے گئے ہیں۔

اس سے پہلے ہلاک ہونے والے آسٹریلوی جنگجوئوں میں سب سے سینئر جنگجو محمد علی بریالی تھا جو کہ دو ہفتے قبل شام ہی میں جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوگیا۔

اس کے علاوہ ہیرالڈ نے سڈنی سے تعلق رکھنے والے ایک اور جنگجو ابو نور الکردی کا ذکر کیا جو کہ بریالی کے ساتھ ہی ہلاک ہوگیا تھا۔