.

مصر: اخوان کے حامی اینکر آف سکرین کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری حکومت کی جانب سے کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ٹی وی اینکرز اور نیوز کاسٹرز کے ٹی وی پر پروگرام کرنے پر پابندی عاید کر دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون کی حمایت میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینز کو مصری ٹیلی ویژن اینڈ ریڈیو براڈ کاسٹنگ کارپوریشن سے نکال دیا جائے گا۔

مصری وزیر اطلاعات ونشریات، ریڈیو و ٹیلی ویژن کارپوریشن کے چیئرمین عصام الامیر نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹی وی چینلز میں براڈ کاسٹنگ کے شعبوں میں کام کرنے والے اخوان نواز افراد کی چھانٹی کی جا رہی ہے اور ان کے ٹی وی اسکرین پر نمودار ہونے پر پابندی لگانے کے بعد انہیں انتظامی ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں۔

مصری وزیر اطلاعات نے کہا کہ وہ ایسے ٹی ویژن چینلز پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جو ملک میں نئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اخوان المسلمون کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایسے تمام ٹی وی چینلز کو براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ’’ماسپیرو‘‘ سے الگ کر دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ تمام ٹی وی اینکر اور نیوز کاسٹر جن پر اخوان المسلمون کے حامی ہونے کا شبہ ہے ٹی وی اسکرین سے ہٹا دیئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اخوان المسلمون کے مقرب سمجھے جانے والے ٹی وی اینکرز کو یہ پیغام پہنچا دیا گیا کہ اگر وہ اپنی ملازمت برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ٹی وی اسکرین کے بجائے پس منظر میں دوسرے شعبوں میں کام کرنا ہو گا۔

عصام الامیر نے کہا کہ ملک میں کئی ٹی وی چینل مسلج افواج اور موجودہ حکومت کے خلاف زہر گھول رہے ہیں۔ اگر ان ٹی وی چینلز نے اپنا وطیرہ نہ بدلا تو انہیں مصر کی سرکاری براڈ کاسٹنگ کارپوریشن سے نکال دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ فوری طور پر عربی اور ترکی زبان میں نشریات پیش کرنے والے دو ٹی وی چینلز کو کارپویشن سے نکال دیا گیا ہے۔ ان کی راہ پر چلنے والے دوسرے ٹی وی چینلوں کے لیے یہ ایک وارننگ ہے۔ انہوں نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو انہیں بھی کارپوریشن سے باہر کر دیا جائے گا۔

درایں اثناء مصر کے ایک وکیل اور ماہر قانون سمیر صبری نے پراسیکیوٹر جنرل کو ایک درخواست دی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ نظام حکومت اور فوج کے خلاف بولنے والے ٹی وی اینکروں اور ایسے ٹی ویژن چینلوں کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔

درخواست میں وزیر اطلاعات کو بھی فریق بنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ عصام الامیر نے اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے نیوز کاسٹروں اور اینکروں کو مکمل طور پر فارغ کرنے کے بجائے انہیں انتظامی عہدوں پر مامور کرنے کا ایک غلط فیصلہ کیا ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل ایسے تمام میڈیا عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کی سفارش کرے جو ملک میں انتہا پسندانہ نظریات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔