یورپی یونین کا فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کی خارجہ امور کی نئی سربراہ فیدیریکا موگیرینی نے غزہ کے دورے کے موقع پر خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔ موگیرینی کے جاری دورہ غزہ ہی کے روز شمالی اسرائیل میں پولیس نے ایک عرب نوجوان کو گولی مار کر شہید کر دیا۔

حال ہی میں اپنا عہدہ سنبھالنے والی فیدیریکا موگیرینی گذشتہ روز اپنے پہلے دورے پر مشرق وسطیٰ پہنچی تھیں اور ان کا دورہ آج [اتوار] تک جاری رہے گا۔ غزہ پہنچنے کے بعد انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی ایک خود مختار ریاست جلد از جلد قائم ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ دنیا غزہ پٹی کے علاقے میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین کسی نئی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

گذشتہ چھ برسوں کے دوران اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین تیسرے مسلح تنازعے کے نتیجے میں بری طرح تباہ ہو جانے والی غزہ پٹی کے اپنے دورے کے دوران موگیرینی نے کہا، ’’ہمیں ایک فلسطینی ریاست کی ضرورت ہے۔ یہی حتمی منزل ہے اور پوری یورپی یونین کی مشترکہ پوزیشن بھی۔‘‘

اس سال جولائی اور اگست میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی 50 دنوں تک جاری رہی تھی، جس میں دو ہزار ایک سو چالیس سے زائد فلسطینی شہید اور 70 سے زائد اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مزید یہودی بستیوں کی تعمیر کے جو نئے متنازعہ منصوبے بنا رکھے ہیں، ان کی وجہ سے وہاں تقریبا ہر روز پرتشدد واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں۔ موگیرینی خطے کا اپنا یہ پہلا دورہ اسی پس منظر میں کر رہی ہیں۔

موگیرینی نے، جو اٹلی کی سابق وزیر خارجہ ہیں، کہا کہ اب بیٹھ کر صرف انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم صرف بیٹھ کر انتظار ہی کرتے رہے تو مزید چالیس سال گزر جائیں گے۔ ہمیں ابھی ایکشن لینا ہو گا۔‘‘

فلسطینی اپنے لیے ایک ایسی آزاد ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہیں، جو غزہ پٹی اور اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے علاقوں پر مشتمل ہو گی اور جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہونا چاہیے۔ سویڈن یورپی یونین کا رکن وہ پہلا مغربی یورپی ملک ہے، جس نے گزشتہ مہینے فلسطینی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں