.

داعش مخالف مہم نئے مرحلے میں داخل : اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ عراق میں مزید پندرہ سو فوجیوں کی تعیناتی کے بعد داعش کے خلاف جنگی مہم کا نیا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔

انھوں نے یہ بات اتوار کو سی بی ایس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''پہلے مرحلے میں عراق میں تمام جماعتوں اور دھڑوں پر مشتمل قومی حکومت کا قیام عمل میں لایا جانا تھا اور یہ کام ہم کرچکے ہیں''۔

صدراوباما نے کہا کہ ''ہم داعش کی پیش قدمی کو روکنے کے بعد اب ہم اس مرحلے میں ہیں کہ ان پر بعض جارحانہ حملے کرسکیں''۔ان کا کہنا تھا کہ ''داعش کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے اور اس کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے فضائی حملے بڑے مؤثر رہے ہیں۔اب ہمیں برّی دستے درکار ہیں،عراقی فوج کے زمینی دستے، جو انھیں (داعش کے جنگجوؤں کو) پیچھے دھکیل سکیں''۔

امریکا کے جنگی طیاروں نے عراق کے شمالی شہر موصل کے نزدیک ہفتے کے روز داعش کے گاڑیوں کے ایک قافلے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا تھا۔تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ داعش کے سربراہ ابوبکرالبغدادی بھی اس قافلے میں شامل تھے یا نہیں۔اس سے پہلے عراق کے سرحدی قصبے القائم میں امریکا کے ایک اور فضائی حملے میں ابوبکرالبغدادی کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔