.

امریکا:علی صالح اور دو حوثی لیڈر بلیک لسٹ

امریکی محکمہ خزانہ نے تینوں یمنی شخصیات پر پابندیاں عاید کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے یمن میں طوائف الملوکی کو ہوا دینے کے الزام نے سابق صدر علی عبداللہ صالح اور حوثی شیعہ باغیوں کے دو لیڈروں کو بلیک لسٹ کردیا ہے اور ان پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''وہ یمن میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے خطرے کا موجب سرگرمیوں میں براہ راست یا بالواسطہ ملوّث ہونے کے الزام میں علی عبداللہ صالح ،دو حوثی لیڈروں یحییٰ الحکیم اورعبدالخالق الحوثی کو بلیک لسٹ کررہا ہے''۔دو روز پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی انہی الزامات کے تحت ان تینوں یمنی شخصیات پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔

علی عبداللہ صالح کے ہزاروں حامیوں اور شیعہ حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا میں جمعہ کے روز امریکا کے خلاف بڑی ریلی نکالی تھی اور سابق صدر اور باغی لیڈروں کے خلاف اقوام متحدہ اور امریکا کی ان ممکنہ پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

علی عبداللہ صالح کو یمن میں جاری حالیہ طوائف الملوکی میں براہ راست ملوث قرار دیا جارہا ہے اور انھوں نے مبینہ طور پر صنعا اور دوسرے شہروں پر حوثی باغیوں کے کنٹرول میں بھی معاونت کی تھی۔وہ 2012ء میں اپنے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد تینتیس سال تک برسر اقتدار رہنے کے بعد مستعفی ہوگئے تھے لیکن اب ایک مرتبہ پھر وہ دوبارہ برسراقتدار آنے کی امید میں حوثی باغیوں کی حمایت کررہے ہیں۔

سابق یمنی صدر کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ علی صالح کو صنعا میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے ایک الٹی میٹم موصول ہوا تھا۔اس میں کہا گیا تھا کہ وہ جمعہ تک صنعا سے چلے جائیں ورنہ ان کے خلاف پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔

العربیہ نیوز چینل نے گذشتہ ماہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ علی عبداللہ صالح نے حوثی باغیوں کی صنعا اور دوسرے شہروں میں عمل داری قائم کرنے کے لیے فعال اندازمیں مدد کی تھی اور انھوں نے یہ سب کچھ دوبارہ برسراقتدار آنے کی امید میں کیا تھا۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ علی صالح اور حوثی لیڈروں کے درمیان ایک خفیہ ملاقات ہوئِی تھی جس میں انھوں نے علاقائی طاقتوں اور خاص طور پر سعودی عرب کو یمن میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں اپنے مؤقف کے مطابق آگاہ کرنے اور انھیں اپنا ہم نوا بنانے سے اتفاق کیا تھا۔

حوثیوں نے مبینہ طور پر سابق صدر سے یہ کہا تھا کہ وہ اپنے ایسے معاونین کو سعودی عرب روانہ کریں جن کی وہاں خوب جان پہچان ہو اور وہ سعودی قیادت کو دھوکا دینے کے انداز میں یہ باور کرائیں کہ اگر وہ سابق یمنی صدر پر اعتماد کریں تو حوثیوں کی صنعا اور دوسرے شہروں میں عمل داری ختم کی جاسکتی ہے۔

اس سازش کا بنیادی مقصد حوثیوں کے مخالفین میں اعتماد پیدا کرناتھا۔اس سے ان مخالفین کو ممکنہ طور پر سعودی عرب کی حمایت حاصل ہوسکتی تھی۔اس کا دوسرا بڑا مقصد ایسی صورت حال پیدا کرنا تھا جو حوثیوں اور علی عبداللہ صالح دونوں کے لیے سود مند ہو اور ان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کی راہ ہموار ہو سکے۔