.

یواین ایلچی کی لیبی وزیراعظم سے ملاقات سے قبل بم دھماکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے ایک مشرقی شہر شحات میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی وزیراعظم عبداللہ الثنی سے ملاقات سے قبل بم دھماکا ہوا ہے۔

لیبیا کے ایک سرکاری عہدے دار نے بتایا ہے کہ مشرقی شہر شحات میں ایک سکیورٹی ہیڈکوارٹرز کے باہر بم دھماکا ہوا ہے۔تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔یہ بم دھماکا لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے سربراہ برنارڈینو لیون اور ان کے وفد کی وزیراعظم عبداللہ الثنی سے ملاقات سے چندے قبل ہوا تھا۔

ان کے درمیان ملاقات کسی اور عمارت میں ہونے والی تھی اور جس عمارت کے سامنے دھماکا ہوا ہے،وہاں سرکاری عہدے داروں کا ایک اجلاس ہورہا تھا۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ بم دھماکے کا ہدف کون تھا۔

اقوام متحدہ کے شعبہ خارجہ امور کے ترجمان ہاؤزے لوئس دیاز نے بتایا ہے کہ برنارڈینو لیون کی قیادت میں وفد بحفاظت تیونس واپس پہنچ گیا ہے۔ترجمان نے ایک ای میل بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کا مشن لیبیا میں سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور لیبی عوام کی مدد کرتا رہے گا۔

لیبیا کے خارجہ سیکریٹری حسن الصغیر نے سرکاری خبررساں ایجنسی لانا سے گفتگو کرتے ہوئے بم دھماکے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ بم دھماکے کے بعد اقوام متحدہ کے وفد کی عبداللہ الثنی سے ملاقات ہوئی ہے یا وہ اس کے بغیر ہی واپس چلا گیا ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا میں اس وقت دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان کررہی ہیں۔تاہم عبداللہ الثنی کی قیادت میں حکومت کو سفارتی سطح پر برتری حاصل ہے اور انھیں امریکا اور مغربی حکومتوں نے تسلیم کررکھا ہے۔ان کی حکومت نے مشرقی شہر طبرق میں اپنے دفاتر منتقل کر لیے ہیں اور ان کی حامی پارلیمان کے اجلاس بھی وہیں منعقد ہوتے ہیں۔

دارالحکومت طرابلس پر اس وقت عبداللہ الثنی کی حکومت کے مخالف مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے۔لیبی دارالحکومت میں قائم عدالت عظمیٰ نے گذشتہ ہفتے وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ وہ ملکی آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہے۔

اس وقت الثنی حکومت کا طبرق سے باہر کوئی اثر ورسوخ نہیں ہے جبکہ دارالحکومت طرابلس میں اسلامی جماعتوں کے اتحادی جنگجوؤں کا قبضہ ہے اور دوسرے بڑے شہر بن غازی میں ایک سابق جنرل خلیفہ حفتر کے وفادار جنگجوؤں اور اسلامی ملیشیاؤں کے درمیان گذشتہ تین ہفتے سے خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔ان میں تین سو سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔