.

سعودی کابینہ: الاحساء میں شہریوں کا قتل ظالمانہ عمل ہے

اسرائیلی فوج کی مسجد اقصی پر چڑھائی کی بھی مذمت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی کابینہ نے الاحساء میں بے گناہ مسلمان شہریوں کو ہلاک کیے جانے کے واقعے کو ایک غیر قانونی اور ظالمانہ کارروائی قرار دیا ہے۔

کابینہ کے اجلاس میں اسرائیل کی طرف سے فلسطینی عوام کے خلاف مسلسل حملوں اور پر تشدد کارروائیوں کی بھی مذمت کی گئی ہے اور اسرائیلی مظالم کو اسرائیلی وحشت کا نام دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں ملک کے اندر شہریوں کی ہلاکت کے حالیہ افسوسناک واقعے کے ساتھ ساتھ خطے کی صورتحال اور بعض اہم قومی امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

کابینہ نے الاحساء کے گورنریٹ میں واقع گاوں الدلواہ میں گذشتہ پیر کو ہونے والی دہشت گردانہ کارروائی کو مسلم دشمنی پر مبنی کارروائی قرار دیا ۔ واضح رہے اس واقعے میں پانچ سعودی شہری جاں بحق اور نو زخمی ہو گئے تھے۔

واقعے کے ذمہ داروں کی تلاش کے لیے سعوادی سکیورٹی فورسز نے ایک بھر پور آپریشن شروع کر کے علاقے کا کونہ کونہ چھاننا شروع کر دیا ہے۔

اس موقع پر کابینہ نے مذاکراتی عمل کی تعریف کی ۔ یہ مذاکراتی عمل شاہ عبدالعزیز مرکز برائے قومی مکالمہ کے تحت مملکت کے تمام حصوں میں 20 ہونے والے اجلاسوں پر مشتمل تھا۔ اس میں ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے علاوہ کابینہ کے ارکان، علماء، مبلغین اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کابینہ کے اجلاس میں مسجد اقصی پر اسرائیلی فوج کے حالیہ دنوں میں چڑھ دوڑنے اور نمازیوں پر حملوں کے واقعات کی سخت مذمت کی گئی۔

سعودی کابینہ نے اس حوالے سے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ اسرائیل کی ان ظالمانہ کارروائیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اسرائیل کی یہ جارحیت رکوانے کے لیے اقدامات کرے۔

سعودی کابینہ نے مالی معاملات سے متعلق بھی بعض اہم فیصلے کیے۔ کابینہ کے اجلاس کے حوالے سے وزیر برائے امور حج ڈاکٹر بندر حجار نے بطور قائم مقام وزیر اطلاعات کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔