.

عراقی صدر کا دورہ سعودی عرب ، شاہ عبداللہ سے ملاقات

سالہا سال کے بعد اعلی ترین رابطے بحال ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور عراق کے درمیان اعلی ترین سطح پر برسوں سے منقطع رابطے عراقی صدر فواد معصوم کے دورہ سعودی عرب سے بحال ہو گئے ہیں۔

عراقی کابینہ کے اہم ارکان کے ساتھ عراقی صدر ریاض پہنچے تو ائیرپورٹ پر نائب ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبداللہ نے اعلی حکام کے ہمراہ خیر مقدم کیا۔ دورہ کرنے والے عراقی وزارء میں وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ بھی شامل ہیں۔

بعد ازاں عراقی صدر نے خادم حرمین الشریفین شاہ عبداللہ سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران دو طرفہ دلچسپی کے امور کے علاوہ خطے کی صورت حال زیر غور رہی۔ شاہ عبداللہ سے ملاقات میں عراقی سلامتی اور خطے کا استحکام اہم ترین موضوع رہے۔

واضح رہے سعودی عرب اور عراق کے درمیان سالہا سال تک تعلقات میں کشیدگی کی صورت حال رہی ہے۔ خصوصا حالیہ برسوں میں نوری المالکی کے دور حکومت میں فرقہ وارانہ ایجنڈے کی بنیاد پر حکومت کرنے کے المالکی کی کوششوں نے پڑوسیوں سے بھی تعلقات کو نقصان پہنچایا۔

نوری المالکی کے دور میں سنی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی ہی نہیں انتقامی انداز اختیار کیا گیا۔ جس کی وجہ سے سعودی عرب اور عراق کے درمیان پڑوسی ملک ہونے کے باوجود سفارتی بعد غیر معمولی طور پر بڑھ گیا۔

نوری المالکی کے بعد عراقی صدر فواد معصوم نے حیدر العبادی کو ماہ اگست میں عراقی وزارت عظمی کے لیے نامزد کیے جانے کے بعد سعودی عرب نے نامزد وزیر اعظم کے علاوہ صدر فواد معصوم دونوں کو مبارکباد کا پیغام بھجوایا ہے۔

شاہ عبداللہ نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا تھا'' حیدر العبادی کی نامزدگی دو طرفہ ہم آہنگی میں اضافے کا باعث بنے گی اور اس سے عراقی عوام کو اتحاد و استحکام میسر آئے گا۔''

سعودی عرب ماہ اگست کے دوران داعش کے خلاف شروع کی گئی امریکی فضائی کارروائیوں کا حصہ ہے اور عراقی عوام کو داعش سے نجات دلانے کے لیے کوشاں ہے۔

سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور اس کی عراق کے ساتھ سرحد آٹھ سو کلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔