.

داعش ،فضائی جنگ میں شدت لائی جائے گی: ہیگل

امریکی عوام کو طویل اور مشکل جدوجہد کے لیے تیار رہنا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیردفاع چک ہیگل نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جاری فضائی جنگ میں مستقبل قریب میں شدت لائی جائے گی۔امریکی عوام کو ایک طویل اور مشکل جدوجہد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

چک ہیگل نے امریکی ایوان نمائندگان میں جمعرات کو بیان دیتے ہوئے اوباما انتظامیہ کی داعش کے خلاف حکمت عملی کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ عراقی فورسز کی تشکیل نو کے بعد امریکی اتحادیوں کے فضائی حملوں میں تیزی لائی جائے گی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ''عراق کے بعض حصوں میں داعش کی پیش قدمی کو روک دیا گیا ہے اور بعض علاقوں سے تو انھیں پسپا ہونے پر مجبور کردیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود داعش امریکی مفادات ،ہمارے اتحادیوں اور مشرق وسطیٰ کے لیے ایک خطرہ ہے۔اس نے عراق کے بہت سے شمالی اور مغربی حصوں اور مشرقی شام میں قبضہ کررکھا ہے''۔

امریکی وزیردفاع اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی کو ایوان نمائندگان میں صدر اوباما کی جانب سے داعش کے خلاف جنگ کے لیے مزید پانچ ارب ساٹھ کروڑ ڈالرز کی رقم دینے اور عراق میں امریکی مشن کی توسیع میں منظوری کے لیے مطالبے کے بعد طلب کیا گیا ہے۔

کانگریس کی جانب سے منظوری کے بعد عراق میں فوج کی تربیت اور مشاورت پر مامور امریکی فوجیوں کی تعداد تین ہزار ایک سو ہوجائے گی۔اس وقت عراق میں ایک ہزار چار سو امریکی فوجی موجود ہیں اور ان میں سولہ سو امریکی فوجیوں کو عراق بھیجنے کی کانگریس پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔