.

لیبیا : مصری اور یواے ای سفارت خانوں کے باہر بم دھماکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں مصر اور متحدہ عرب امارات کے سفارت خانوں کے نزدیک جمعرات کو بم دھماکے ہوئے ہیں۔فوری طور پر ان حملوں میں کسی جانی کی اطلاع نہیں ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق مصری سفارت خانے کے باہر بم دھماکے میں بعض عمارتوں اور اسٹورز کو معمولی نقصان پہنچا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ اس سے سفارت خانے کی عمارت کو بھی کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں اور آیا عمارت کے اندر سفارتی عملے کا بھی کوئی رکن موجود تھا یا نہیں۔
طرابلس میں گذشتہ موسم گرما میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپوں کے بعد متحدہ عرب امارات اور مصر نے بھی بعض دوسرے ممالک کی طرح اپنے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا تھا۔بعض ممالک کا سفارتی عملہ اس وقت پڑوسی ملک تیونس سے سفارتی خدمات انجام دے رہا ہے۔

گذشتہ روز لیبیا کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے عمل داری والے شہروں اور قصبوں میں پے درپے متعدد کار بم دھماکے ہوئے تھے۔واضح رہے کہ اسلامی جنگجوؤں پر مشتمل فجر لیبیا نے طرابلس میں اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے جبکہ مغرب کے حمایت یافتہ وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت نے دوردراز مشرقی شہر طبرق میں اپنے دفاتر قائم کررکھے ہیں اور نئی پارلیمان کے اجلاس بھی وہیں منعقد ہوتے ہیں جبکہ کمزور مرکزی حکومت کے تحت فوج مسلح جنگجو گروپوں کے خلاف دوسرے بڑے شہر بن غازی سمیت مختلف مشرقی قصبوں اور شہروں میں کارروائی کررہی ہے۔