عراقی حکومت اور نیم خود مختار کرد حکومت کے تنازعات طے

کرد انتظامیہ کو تنخواہیں بغداد دے گا، تیل برآمدگی کی بھی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی حکومت اور نیم خود مختار کرد علاقے کی انتظامیہ کے درمیان تیل اور تنخواہوں کی ادائیگیوں کا پرانا تنازعہ طے کرنے کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے کے مطابق تیل کی برآمد کے امور طے پانے کے علاوہ عراقی حکومت کی طرف سے سول کے شعبے میں خدمات کے سلسلے میں ادائیگیاں بھی کرے گی۔

عراق کے وزیر خزانہ ہوشیار زیباری میں اس معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ وزیر خزانہ جو کہ خود بھی کرد ہیں نے کہا ہے '' فی الحال یہ تنازعہ طے ہو گیا ہے اور اب پہلے کی طرح کرد علاقوں میں خدمات انجام دینے والے انتظامی افسران کو بھی تنخواہیں بغداد سے ہی جایا کریں گی۔''

وزیر خارجہ نے اس معاہدے کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا فوری طور پر ماہ اکتوبر اور ماہ نومبر کے سلسلے میں ادائیگیاں کی جائیں گی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ معاہدہ عراقی وزیر تیل عادل عبدالمہدی اور کرد وزیر اعظم نوشیروان بارزانی کے درمیان مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔

عراقی حکومت نے کرد انتظامیہ کی طرف سے ترکی کو ازخود تیل کی برآمد شروع کرنے کے بعد کرد انتظامی مشینری کی تنخواہوں کی مد میں رقوم کی ادائیگی روک دی تھی۔ اب معاہدے کے بعد کرد انتظامیہ یومیہ ڈیڑھ لاکھ بیرل تیل کی برآمد بھی کر سکے گی۔

کرد دارالحکومت ایربیل نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت بغداد حکومت کرد حکومت کو 500 ملین ڈالر ادا کرے گی۔ جبکہ بغداد کو یومیہ ڈیڑھ لاکھ بیرل تیل ملے گا۔ کرد ترجمان صفین کے مطابق معاہدے کے بعد تیل کی برآمدات کا کنٹرول کرد انتظامیہ کے پاس ہی رہے گا۔

واضح رہے نوری المالکی کے دور میں کردوں نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ نوری الماکی نے کردوں پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کی نقل و حمل کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ تاہم آج عراقی حکومت اور کرد ملیشیا دونوں کا مشترکہ ہدف داعش ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں