.

فرانس میں پہلے جہادی کو سات سال قید کی سزا

کورین نژاد شہری 2012 میں چند روز شام میں مقیم رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں ایک شہری کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے شام میں جہادیوں کی طرف سے انتہا پسندی میں حصہ لیا تھا۔ فرانس کی عدالت سے اس جرم میں سزا پانے والا یہ پہلا شہری ہے۔

سزا پانے والے شہری فلیون موریو کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس نے 2012 کے اختتام پر شام کا سفر کیا تھا۔ تاہم وہاں تقریبا درجن بھر دنوں کے لیے مقیم رہا تھا۔ لیکن تمباکو نوشی پر اسلامی عسکریت پسندوں کی طرف سے کڑی پابندی کی وجہ سے اسے جلد واپس آنا پڑا تھا۔

فرانس واپسی پر انسداد دہشت گردی سے متعلق حکام نے اس کی نگرانی شروع کر دی اور جنوری 2013 میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد معلوم ہوا کہ وہ دوبارہ شام جانے کے لیے ایک جعلی شناختی کارڈ بنوانے کے لیے کوشاں تھا۔

سزا پانے والے 28 سالہ شہری کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ کورین نژاد شہری ہے اور اسے اس کے بچپن میں ہی ایک فرانسیسی خاندان نے پالا تھا۔ وہ نو عمری میں ہی جرائم کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ وہ اب تک 13 مرتبہ سزا پا چکا ہے۔

جیل سے رہائی کے بعد اسلام سے متاثر ہوا اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس نے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ وہ شام ایک سمگلر کی مدد سے گیا تھا۔

جہاں اس نے اسلامی عسکریت پسندوں کے زیر قبضہ علاقے میں قیام کیا تھا۔ وہیں اس نے کلاشنکوف اور اسلحہ خریدا لیکن کسی کارروائی میں حصہ نہیں لیا تھا۔

البتہ اس نے عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ پہرے داری کی ذمہ داری انجام دیتا رہا ہے۔ لیکن اس کے لیے سگریٹ نوشی چھوڑنا ممکن نہ تھا اس لیے وہ اسلحہ امیر کے حوالے کر کے واپس آ گیا۔

فرانسیسی تحقیقاتی ادارے نے اس کا 26 سالہ فرید جبار سے بھی مسلسل رابطے میں رہنا نوٹ کیا۔ فرید جبار کبھی فرانس سے باہر نہیں گیا لیکن اسے موریو کی طرف سے دو مرتبہ رقم منتقل کی گئی۔ ان کے کمپیوٹرز سے بھی جہادی مواد ملا ہے۔