.

"داعش موصل کی طرح بلوچستان پر بھی قبضہ کرسکتی ہے"

ایرانی رکن شوریٰ کا پارلیمنٹ میں سخت انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی مجلس شوریٰ "پارلیمنٹ" کے ایک سینیر رُکن نے خبردار کیا ہے کہ سُنی اکثریتی صوبہ سیستان بلوچستان میں امن قائم نہ ہوا تو یہ وہ علاقہ بھی عراق کے شہر موصل کی طرح دولت اسلامی "داعش" کے قبضے میں جا سکتا ہے۔

نیم سرکاری ایرنای خبر رساں ایجنسی'مہر' کے مطابق رکن شوریٰ حسین علی شہر یاری نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایوان کی توجہ مشرقی ایران کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کی طرف دلائی اور خبردار کیا کہ اگر حکومت صوبے کو حقوق دینے میں‌ ناکام رہی اور وہاں حکومتی رٹ قائم نہ ہو سکی تو یہ صوبہ بھی"داعش" کے تکفیری جہادیوں کے نرغے میں جا سکتا ہے۔

اپنی گفتگو میں جناب شہر یاری نے پاکستان کی سرحد سے متصل صوبہ بلوچستان میں سرگرم سُنی عسکری گروپ "جیش العدل" اور ایرانی بارڈر فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑوں کی جانب بھی اشارہ کیا جن میں متعدد ایرانی فوجی افسر اور جوان ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ایران میں رکن پارلیمنٹ حسین علی شہر یاری کے انتباہ پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی بلکہ الٹا ان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی مسلح افواج کے سینیر مشیر محمد باقر زادہ کا کہنا ہے کہ علی شہر یاری کے صوبہ سیستان بلوچستان کے بارے میں خدشات قطعی طور پر بے بنیاد ہیں۔ صوبے میں حالات مکمل طور پرحکومت کے قابو میں ہیں اور مکمل امن وامان قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ موصل اور بلوچستان کے حالات میں یکسانیت تلاش کرنا دشمن کی طرف داری کرنے کے مترادف ہے۔ شہر یاری کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں صوبہ بلوچستان کے اصل حالات کا علم ہی نہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی خارجہ اور قومی سلامتی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ حسین علی شہر یاری کو ایسے بیانات دینے سے سختی سے منع کرے جس سے ملک کے کسی علاقے میں کشیدگی پیدا ہونے کا اندیشہ پیدا ہو۔

علی باقر زادہ کا دعویٰ اپنی جگہ مگر سنی اکثریتی صوبہ سیستان بلوچستان پچھلے کئی سال سے بدترین کشیدگی کا شکار ہے، جہاں ایک نہیں مبینہ طور پر کئی عسکری گروپ اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ حالیہ چند ہفتوں کے دوران صوبے میں ٹارگٹ کلنگ، پولیس، پاسداران انقلاب اور بارڈر سیکیورٹی فورسز پر مسلسل حملے ہوئے ہیں جن کی ذمہ داری جیش العدل نامی ایک سنی گروپ نے قبول کی ہے۔ ان حملوں میں کئی ایرانی سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

انہی جھڑپوں کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے درمیان اکتوبر میں سرحدی کشیدگی بھی پیدا ہوئی تھی۔ بلوچ عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے پاکستان کی سرحد کے قریب کی گئی گوریلا کارروائیوں میں ایرانی فوج کے کئی افسر اور سپاہی مارے گئے تھے جس کے بعد ایران نے پاکستان کی حدود میں فائرنگ کی تھی۔ ایران کی جانب سے متعدد مرتبہ پاکستان کی حدود میں راکٹ حملے بھی کیے گئے۔