مکہ میں 'مقابلہ حُسن' منعقد کرانے کی کوشش ناکام

غیر قانونی اقدام میں ملوث خواتین گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں اسلامی قوانین کی عمل داری کی وجہ سے معاشرہ بہت سی سماجی برائیوں سے محفوظ ہے مگر بعض اوقات شر پسند عناصر کی غیر قانونی حرکتیں بھی دیکھنے کو ملتی تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے معاشرے میں فساد پھیلانے والی ہر کوشش کو فوری کاررروائی کرکے ناکام بنا دیتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ کے مطابق حال ہی میں کچھ خواتین نے مکہ معظمہ کے ایک شادی ہال میں "ملکہ حسن مکہ" کے عنوان سے خواتین میں ایک مقابلہ حسن منعقد کرانے کی کوشش کی تاہم مذہبی پولیس المروف محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے فوری کاررروائی کرکے اسے ناکام بنا دیا اور اس غیر قانونی حرکت میں ملوث کئی خواتین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پچھلے چند روز سے مکہ مکرمہ گورنری میں جعلی مقابلہ حسن کے بارے میں چہ میگوئیاں جاری تھیں۔ اسی اثناء میں کچھ شہریوں نے پولیس کو بھی ایک درخواست کے ذریعے مطلع کیا کہ سوشل میڈیا پر"ملکہ حسن مکہ" کے عنوان سے ایک مہم چلائی جا رہی ہے جس میں 17 سے 27 برس کی لڑکیوں کو مُفت رجسٹریشن کی پیشکش بھی کی جا رہی ہے۔ پولیس نے اس کی تحقیقات شروع کی تو معلوم ہوا کہ مقابلہ حسن منعقد کرانے والی خواتین نے شہر میں ایک شادی ہال بُک کرا رکھا تھا جس میں یہ تقریب ہونا تھی۔

سعودی اخبار "المدینہ" نے بھی اس کی تفصیلات جاری کی ہیں جن میں بتایا ہے کہ جعلی مقابلہ حسن کی چرچا سوشل میڈیا پر جاری رجسٹریشن مہم سے اٹھا۔ یہ مقابلہ شہر کےایک بڑے شادی ہال میں منعقد کیا جانا تھا۔ جس میں ملکہ حسن منتخب ہونے والی دوشیزہ کو انعام میں ایک سونے کی انگشتری اور دو ہار پہنائے جانے تھے۔

شادی ہال کے مالک نے اخبار "المدینہ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور ہال کی انتظامیہ میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں کہ خواتین یہاں کیا کرنا چاہتی تاہم انہوں نے یہ کہہ کر شادی ہال بک کرایا تھا کہ وہ ایک فنگشن کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے فنگشن منعقد کئے جانے سے قبل ہی پولیس نے کارروائی کرے مبینہ طور پر مقابلہ حسن منعقد کرانے والی کئی خواتین کو حراست میں لے لیا ہے جن سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔ دوران تفتیش انہوں‌ نے اعتراف کیا کہ شادی ہال کو مقابلہ حسن کے انعقاد کے لیے بک کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں