.

امریکی صدر:بشارالاسد سے داعش مخالف اتحاد مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے داعش کے خلاف شامی صدر بشارالاسد کے ساتھ کسی قسم کے اتحاد کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ شامی صدر ایک ناجائز حکمران ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ رد ہوجائے گا۔

انھوں نے یہ بات آسٹریلیا کے شہر برسبین میں منعقدہ جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا:'' بشارالاسد نے بڑی بے رحمی سے اپنے ہی ہزاروں شہریوں کو قتل کردیا ہے،اس کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر حق حکمرانی سے محروم ہوچکے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ'' اگرہم ان سے (بشارالاسد) مل کر داعش کے خلاف مشترکہ کاز میں اکٹھے ہوجاتے ہیں تو پھر اس کے نتیجے میں شام میں زیادہ سے زیادہ سنی اس جنگجو تنظیم کی حمایت کرنے لگیں گے اور اس سے ہمارا (داعش مخالف) اتحاد کمزور ہوگا''۔

امریکا میں اسی ہفتے منظرعام پر آنے والی بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صدر اوباما نے اپنی انتظامیہ کو شامی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینے کا حکم دیا ہے کیونکہ بشارالاسد اپنے خلاف مارچ 2011ء سے جاری مسلح عوامی تحریک کے باوجود بدستور اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔

شام میں ایک جانب تو باغی جنگجو گروپ صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑرہے ہیں جبکہ دوسری جانب امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کررہے ہیں۔امریکا کی قیادت میں اتحاد کو داعش کے خلاف اس کارروائی کے لیے اسد حکومت کی خاموش حمایت حاصل ہے۔

جب صدر اوباما سے برسبین میں صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا وہ اپنی تمام شام پالیسی کا ازسرنو تعین کررہے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ اس کا ہمیشہ جائزہ لیا جاتا رہا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا چیز کام کررہی ہے اور کیا نہیں کررہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''بشارالاسد کے حوالے سے ہمارے رویے میں یقینی طور پر کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ تو ہر طرح کی انتہاپسندی کے خلاف ایک جنگ ہے،وہ انتہا پسندی جو بے گناہوں کا سرقلم کرتی ہے یا سیاسی قیدیوں کو بڑے سفاکانہ انداز میں ٹھکانے لگا دیتی ہے اور دنیا کا کوئی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

اوباما کا کہنا تھا کہ ''اسد رجیم کے ساتھ ان کا رابطہ بہت محدود ہے اور انھیں بس امریکی حملوں کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے مگر اس سے آگے یہ توقع نہ کی جائے کہ ہم اسد رجیم سے کوئی اتحاد قائم کرلیں گے کیونکہ ان کی اب اپنے ملک میں کوئِی ساکھ نہیں رہی ہے''۔