.

میکسیکو تک امریکی بحری بیڑے کا تعاقب کریں گے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حالیہ ایام میں ایران کی عسکری قیادت کی جانب سے خلیج عرب اور بحر عمان میں موجود امریکی بحری بیڑوں کے بارے میں سخت دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا جا رہا ہے. ایرانی بحریہ کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ خلیج میں موجود ایرانی فوجیوں اور امریکیوں کے درمیان کسی بھی وقت تصادم ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا کوئی واقعہ رو نما ہو جاتا ہے تو ایرانی فوجیں خلیج میکسیکو تک امریکی بحری بیڑوں کا تعاقب کریں ‌گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں ایڈمرل علی فدوی نے کہا کہ خلیج میں موجود امریکی سپاہ کو وہاں سے نکل جانا چاہیے ورنہ کسی بھی وقت تصادم ہو سکتا ہے۔ ایرانی نیول چیف کا یہ بیان سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے دستاویزی پروگرام "شیطان کے مدمقابل" میں نشر کیا گیا۔

خیال رہے کی ایڈمرل علی فدوی کی جانب سے اس نوعیت کا یہ پہلا بیان نہیں بلکہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران وہ اس طرح کے کئی بیانات جاری کر چکےہیں۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران خلیجی پانیوں میں موجود امریکی بحری بیڑے کو محض 50 سکینڈز میں سمندر برد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ امریکی بحریہ کی جانب سے سمندر میں پاسداران انقلاب کے ساتھ شرارت کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں ‌گے۔

پاسداران انقلاب کی مقرب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی "فارس" کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک دوسرے عہدیدار جنرل مجید زمانی قلعہ نے ایک دستاویزی پروگرام کے لیے ریکارڈ کرائے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران کے پاس نہایت تیز رفتار آبدوزیں اور بحری جنگی جہاز ہیں جو نہایت سرعت کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایرانی بحریہ کی صلاحیت

ایران میں اسلحہ سازی کی صنعت سے وابستہ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تہران نے سنہ 1980 اور 1988ء کے دوران آٹھ سال تک جاری رہنے والی عراق جنگ کے بعد اپنی بحری جنگی صلاحیت کو بہتر بنانے پر بھرپور توجہ مرکوز کیے رکھی۔
بیرون ملک سے 'فریگیٹ' اور دیگر جنگی آلات منگوائے گئے۔ ان میں کم اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل بھی شامل ہیں جو سمندر میں اپنے ہدف کو نہایت کامیابی کے ساتھ تباہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "تسنیم" کے مطابق ایرانی بحریہ کی لاجسٹک صلاحیت تین اقسام میں منقسم ہے۔

تیز ترین جنگی کشتیاں

اس میں ایران کے پاس کم سے کم چھ تیز ترین جنگی بحری جہاز موجود ہیں۔ ان میں ایک کا نام"آذرخش" ہے جو ایک میزائل بردار جہاز ہے اور حملہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسرے نمبر پر تیز ترین بحری جنگی جہاز "ذوالفقار" کا نام آتا ہے۔ اسے زیادہ تر سمندر میں فوج کے گشت کے استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ بھی جدید ترین میزائل سسٹم اور میشن گنوں سے لیس ہے۔ اس کی اضافی خصوصیت جہاز پر نصب راڈار ہیں جو دشمن کی نقل وحرکت کی معلومات حاصل کرتے ہیں۔

تیسرا تیز تیرن بحری جہاز "تندر" کے نام سے مشہور ہے۔ یہ جنگی کشتی کروز اور دیسی ساختہ "نور" میزائل داغنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

"تیر" نامی ایک جنگی کشتی بھی "تندر" کی طرح میزئل حملوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ایرانی بحریہ کے پاس پانچویں بڑی جنگی کشتی"سراج" ہے۔ کشتی میزائل بردار جہاز کے طور پر کام کرتی ہے اور سمندر میں ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہی میں"یا مھدی" نامی بحری جہاز مختلف سینسر سسٹمز اور تین راکٹ لانچرز سے لیس ہے۔ میں نصب میزائلوں کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دور سے بھی داغا جا سکتا ہے۔

جنگی ہیلی کاپٹر

ایرانی بحریہ کے پاس جنگی کشتیوں کے ساتھ ساتھ جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی ایک مضبوط ہتھیار ہے۔ ان میں پہلا نام "پاور" طیارے کا ہے جو جدید مشین گنوں، دور بینوں، تاریکی میں دشمن کی نقل وحرکت کی نشاندہی کرنے والے آلات اور جاسوسی کے آلات سے لیس ہے۔ نیز یہ طیارہ فضاء میں معلق رہنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

بحری جہاز شکن میزائل

جنگی کشتیوں اور جنگی طیاروں کے ساتھ ایرانی بحریہ جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے والے خصوصی میزائلوں سے بھی لیس ہے۔ یہ میزائل نہ صرف دشمن کے مفادات کونشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ایرانی بحری جہازوں کی حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کی بحریہ کے پاس موجود میزائلوں اور راکٹوں سے دشمن خوف زدہ رہتا ہے۔ ان میں اہم ترین نام کروز، کوثر، نور اور قادر میزائلوں کے لیے جاتے ہیں۔

راکٹ لانچر اور فریگیٹ

خبر رساں ایجنسی "فارس" کی رپورٹ کے مطابق ایرانی بحریہ کے پاس موجود "تندر" نامی میزائل کشتی سے بہ یک وقت چار اطراف میں میزائل داغے جا سکتے ہیں۔ یہ کشتی جنگی بحری جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور 300 کلومیٹر کے فاصلے تک دشمن کو نشانہ بناتی ہے۔ اس کشتی کےتین انجن اور 1200 اسٹیم ہارس ہیں۔

"یا مہدی" جنگی کشتی ایک موبائل بم کی حیثیت رکھتا ہے جسے چلانے کے لیے اس کے اندر کسی شخص کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ خود طریقے سے بھی حرکت کرتی ہے۔ یہ کشتی بھی راکٹ لانچرز اور دیگر جدید ترین آلات سے لیس ہوتی ہے۔ کم ترین مسافت میں حالت جنگ میں یہ زیادہ قابل بھروسہ جنگی کشتی سمجھی جاتی ہے جسے خود کار طریقے سے دشمن پر حملے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے دشمن کے حملے میں انسانی جانوں کے ضیاع کا کم سے کم امکان رہتا ہے۔