"شامی بحران نے خطے میں تشدد کو فروغ دیا"

امن کے بغیر اقتصادی ترقی ممکن نہیں: سعودی ولی عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ اقتصادی ترقی اور امن وامان کا قیام لازم وملزوم ہیں۔ امن کے بغیر مثالی معاشی ترقی نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کے بحران کےحل میں ناکامی نے خطے میں تشدد کو فروغ دیا جس کے نتیجے میں وہاں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی ولی عہد نے ان خیالات کا اظہار آسٹریلیا میں منعقدہ 'جی ٹوئنٹی' سربراہ اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ اپنی تقریر میں ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے عالمی سطح پر اقتصادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: "عالمی معیشت جن خطرات کا سامنا کر رہی ہے ان کے تدارک کے لیے بڑے پیمانے پر اقتصادی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ اقتصادی بحران دنیا میں تشدد پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ مخلتف ملکوں میں نقص امن کا موجب بن رہا ہے۔ یوں اقتصادی ترقی اور تنزل دونوں عالمی امن و استحکام پر بھی براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔"

شہزادہ سلیمان بن عبدالعزیز نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ 'ہمیں یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے کہ اقتصادی ترقی اور عالمی امن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ دونوں اس طرح لازم و ملزوم ہیں کہ اگر ایک حاصل نہ ہو تو دوسرے کا حصول ویسے ہی ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس لیے موجودہ حالات عالمی برادری سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ جس طرح سیاسی بحرانوں کے حل کے لیے مشترکہ مساعی جاری ہیں۔ اسی طرح اقتصادی ترقی کے لیے بھی عالمی برادری مشترکہ لائحہ عمل تیار کرے۔

اپنی تقریر میں سعودی ولی عہد نے مشرق وسطیٰ میں دیرپا قیام امن کے لیے مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں ‌نے کہا کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ فلسطینی قوم کی امنگوں کے مطابق حل نہیں ہو جاتا اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فلسطین کے بعد شام کا بحران نہایت سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔ شام کے عوام گذشتہ ساڑھے تین برسوں سے ایک ظالم حکومت کے مظالم برداشت کر رہی ہے۔ شام کے بحران کے حل میں ناکامی نے خطے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی میں اضافہ کیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن میں مدد فراہم کرنے کے لیے شام کا بحران بھی حل کرائیں۔

شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے "گروپ 20" کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ غربت کے خاتمے کے لیے ایک جامع پروگرام ترتیب دیں۔ توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کریں اور غریب ممالک کی مدد کر کے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔

عالمی سربراہ کانفرنس میں شرکت سے قبل سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے بریسین شہر میں آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران 'جی 20' سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے سمیت باہمی دلچسپی کے امور تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے سعودی عرب کے بیرون ملک تعلیمی پروگرام کے تحت آسٹریلیا میں 370 سعودی طلباء وطالبات کی جلد تعلیم کی تکمیل اور انہیں دوران تعلیم ہر ممکن سہولت فراہم کرنے پر زور دیا۔ اس موقع پر انہوں ‌نے آسٹریلیا میں سعودی کلچر اتاشی ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبداللہ اور ان کے دیگر ساتھ سفارت کاروں سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے موقع پر سعودی عرب کے طلباء اور اہل خانہ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں