امریکا نے عراقی اور کرد فورس کی تربیت شروع کر دی

آج جنرل ڈیمپسی اور جنرل آسٹن عراق پر مشاورت کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا ہے کہ آئندہ دنوں داعش کے خلاف جنگ کو تیز کرنے کے لیے عراقی افواج کی تربیت شروع کر دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکی افواج کے خصوصی دستے عراق کے مغربی صوبہ انبار میں موجود ہیں جہاں انہوں نے عراقی فوجیوں کی ہنگامی بنیادوں پر تربیت کا کام شروع کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے ''اے پی'' نے کہا ہے کہ وزیر دفاع چک ہیگل نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔ عراقی فورسز کی تربیت میں تیزی امریکی سنٹرل کمانڈ کے جنرل لائیڈ آسٹن کی ہدایت پر لائی گئی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ عراقی فورسز کی نو بریگیڈز کی تربیت کے لیے امر یکی جنگی طیارے بھی سرگرم ہیں، عراقی فورسز کے ساتھ ساتھ کرد ملیشیا پیش المرکہ کی تین بریگیڈز کو بھی تربیت دی جا رہی ہے۔ تاکہ داعش کے چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے۔

پینٹاگان کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی کا اس بارے میں کہا ہے '' اس وقت عراقی فورسز کی کم معیار کی تربیت اور ان کے اندر داعش کے خلاف لڑنے کے جذبے کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ ''

ترجمان کے مطابق کئی دوسرے ملکوں نے بھی عراقی فورسز کی تربیت کی ہامی بھری ہےلیکن اس کا ابھی ان کی طرف سے باقاعدہ اعلان ہونا باقی ہے۔

واضح رہے امریکا نے اسی ماہ کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ عراق کی فوج کی مدد کے لیے مزید 1500 فوجی بھیجے جائیں گے۔آج جنرل آسٹن کی جنرل ڈیمپسی سے بھی ملاقات متوقع ہے جو عراق کے دورے کے بعد واپس پہنچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں