ایران میں عرب باشندوں کی خفیہ قبروں کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں عرب آبادی کے اکثریتی مشرقی صوبہ الاھواز میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے حراستی مراکز میں اذیتیں اور پھانسی دے کر قتل کیے گئے کارکنوں کی خفیہ قبروں کا پتا چلا ہے۔

یہ خفیہ قبریں رامز شہر کے قریب ایک صحراء میں ملی ہیں جن میں رواں سال کے آغاز میں قتل کیے گئے دو مقامی اسکول معلمین ھادی راشدی اور ھاشم شعبانی کو دفن کیا گیا تھا۔ مقامی شہریوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے میتوں کی شناخت کی ہے اور دونوں کا تعلق "جوبجی" کالونی سے تھا۔

اھوازی عرب باشندوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک گروپ نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ھادی راشدی اور ھاشم شعبانی کو جنوری 2014ء کو راز داری میں پھانسی دینے کے بعد ان کی میتیں لواحقین کے حوالے کرنے بجائےانہیں آبادی سے کوسوں دور ایک صحراء میں دفن کیا گیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مقتولین "ڈائیلاگ کلچرل" فاؤنڈیشن کے رکن تھے اور صوبہ اھواز ہی کے دو اسکولوں میں استاد تھے۔

انہیں جنوری 2013ء کو ایران کی ایک انقلاب عدالت نے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ، ایرانی حکومت کےخلاف پروپیگنڈہ کرنے اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کے الزامات کے تحت پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ دوران حراست ان پر بے پناہ جسمانی اور نفسیاتی تشدد کیا گیا۔ تشدد ہی کے ذریعے ان سے اقبالی بیانات لیے گئےتھے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی ترجمان نے رواں سال اکیس فروری کو جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اھواز میں معصوم شہریوں کے ماورائے عدالت قتل اور ان کی خفیہ قبریں بنانے پر سخت احتجاج کیا تھا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام نے ھادی رادی اور ھاشم شعبانی نامی دو اھوازی عرب باشندوں کو من گھڑت الزامات کے تحت انقلاب عدالت سے پھانسی کی سزا دلوانے کے بعد ان کی میتیں ایک صحرا میں دفن کردی تھیں۔

اھوازی عرب باشندوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں مختلف اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو قتل کرنے کے بعد خفیہ مقامت پر دفن کرنے کا سلسلہ نیا نہیں۔ ایران کے مخلتف شہروں میں ایسے کئی قبرستان آباد ہوچکے ہیں جہاں ماورائے عدالت قتل کیے گئے افراد کودفن کیا جاتا ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں "باغملک" شہر میں تین سگے بھائیوں طہ، عبدالرحمان اور عباس الحیدری اور ان کے ایک دوسرے ساتھی علی الشریفی کی قبریں ملی ہیں۔ انہیں جون 2012ء میں خفیہ طورپر پھانسی دینے کے بعد ایک پہاڑی علاقے میں دفن کردیا گیا تھا۔

صوبہ اھواز سے تعلق رکھنے والے دو سیاسی کارکنوں علی حبیشات اور خالد الموسوی کو رواں سال جون میں قتل کرنے کے بعد رامز شہر کے قریب صحراء میں دفن کیا گیا۔

اھوازی انسانی حقوق گروپ نےخبردار کیا ہے کہ ایران میں اہل تشیع مسلک کےسرکردہ علماء کی جانب سے پھانسی پانے والے افراد کے اعضاٰء مریضوں کو عطیہ کیے جانے کے جواز کے حق میں فتاویٰ بھی سامنے آنے لگے ہیں جس کے بعد یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ قتل کے بعد مقتولین کی میتیں ورثاء کے حوالے کرنے کے بجائے ان کےاعضا مختلف اسپتالوں کو عطیہ کر دیے جائیں‌ گے۔

انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ فتاویٰ کی آڑ میں پھانسی کے سزا یافتہ سیاسی اور سماجی کارکنوں کے اعضاء چوری کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں