.

علامہ قرضاوی: بلیک لسٹ قرار دینے کا اقدام مسترد

یو اے ای کی جانب سے مسلم یونین کو دہشت گرد قرار دینے پر اظہار حیرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلم اسکالروں کی عالمی یونین اور اس کے چئیرمین علامہ یوسف القرضاوی نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اپنی یونین کو دہشت گرد قرار دیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور اس اقدام کو مسترد کردیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے ہفتے کے روز مصر کی اخوان المسلمون ،مسلم اسکالروں کی عالمی یونین اور عراق اور شام میں برسرپیکار دولت اسلامی (داعش) سمیت بیاسی مختلف تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔اس نے یہ اقدام دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک وفاقی قانون کے تحت کیا ہے۔

مسلم علماء کی عالمی یونین نے سوموار کو اس کے ردعمل میں جاری کردہ ایک بیان میں متحدہ عرب امارات پر زوردیا ہے کہ وہ اس فہرست میں سے اس کا نام خارج کرے۔یونین نے کہا ہے کہ اس کا نام اس فہرست میں کسی تجزیے یا قانونی ،منطقی یا عقلی تحقیقات کی بنیاد پر شامل نہیں کیا گیا ہے۔

یونین کی جانب سے جاری کردہ بیان پر قطر میں مقیم مصری نژاد معروف عالم دین علامہ یوسف القرضاوی کے دستخط ہیں۔اس میں یونین نے یو اے ای کی جانب سے جاری کردہ دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں اپنے نام کی شمولیت پر سخت حیرت کا اظہار کیا ہے اور اس کو مکمل طور پرمسترد کردیا ہے۔

یو اے ای نے جن دوسرے گروپوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے،ان میں شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار النصرۃ محاذ ،داعش ،یمن کی حوثی تحریک ،مصر کی اخوان المسلمون اور بعض شیعہ گروپ شامل ہیں۔ان کے علاوہ عرب اور مغربی دنیا میں انسانی امدادی کام کرنے والے گروپوں کو بھی دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے۔

یو اے ای سے قبل مارچ میں سعودی عرب نے مذکورہ بالا فہرست میں شامل بہت سے گروپوں کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور ان دونوں ممالک نے بحرین کے ساتھ مل کر قطر پر مشرق وسطیٰ میں اسلامی قوتوں کی حمایت سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 5 مارچ کو قطر میں متعین اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا اور اس پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ ایک دوسرے ملک کے داخلی امور میں مداخلت سے متعلق ریاض معاہدے کی پاسداری میں ناکام رہا ہے لیکن قطر نے اس الزام کو مسترد کردیا تھا۔اتوار اور سوموار کی درمیانی شب الریاض میں خلیج تعاون کونسل کے منعقدہ ایک خصوصی اجلاس میں ان ممالک نے اپنے باہمی اختلافات کے خاتمے سے اتفاق کیا ہے اور ان تینوں ممالک نے اپنے اپنے سفیروں کو قریباً آٹھ ماہ کے وقفے کے بعد واپس دوحہ بھِیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔