ایرانی پارلیمان میں صدر روحانی کے نامزد وزیر کے خلاف ووٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کی پارلیمان نے صدر حسن روحانی کے نامزد سائنس کے وزیر کو ان کے اصلاحات نواز رجحانات کی وجہ سے مسترد کردیا ہے۔

ایرانی پارلیمان کے ارکان کی اکثریت نے نامزد وزیر فخرالدین احمدی دانش آشتیانی کی منظوری دینے کی مخالفت کی ہے اور ایوان میں موجود دوسو ستاون ارکان میں سے ایک سو اکہتر نے ان کی مخالفت کی ہے۔صرف ستر نے ان کے حق میں ووٹ دیا اور سولہ ارکان رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہے۔

آشتیانی ایران کے سابق اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کے دور میں 1997ء سے 2003ء تک سائنس کے نائب وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔اب پارلیمان میں انھیں مسترد کیا جانا دراصل صدر حسن روحانی پر عدم اعتماد کا مظہر ہے اور اس سے ان کے اور پارلیمان میں ان کے سخت گیر مخالفین کے درمیان کشیدگی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

پارلیمان کے سخت گیر ارکان صدر روحانی کی جانب سے جامعات میں مغرب نوازوں اور اصلاح پسندوں کو زیادہ مواقع دینے کی وجہ سے نالاں ہیں اور وہ روایتی سخت گیروں کا کنٹرول چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایرانی پارلیمان نے اکتوبر میں اسی عہدے کے لیے ایک اور نامزد وزیر محمد نیلی احمد آبادی کو بھی مسترد کردیا تھا۔ان سے پہلے صدر حسن روحانی نے سائنس کی وزارت کے لیے اگست میں فراجی دانا کا نام پیش کیا تھا لیکن انھیں بھی اصلاح پسند قرار دے کر مسترد کردیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں