.

عرب میڈیا داعش کا مقابلہ کرے: ملکہ رانیا

داعش عرب دنیا کو ہائی جیک کرنے کے لیے میڈیا استعمال کررہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی ملکہ رانیا نے کہا ہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش عرب دنیا کو ہائی جیک کرنے کے لیے فیس بُک اور ٹویٹر ایسے سوشل چینلز استعمال کررہی ہے،عرب میڈیا کو اس میدان میں اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

وہ ابوظبی میں منگل کو منعقدہ میڈیا سمٹ کے افتتاحی اجلاس میں تقریر کررہی تھیں۔انھوں نے انتہا پسندوں سے درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے تعلیم کے کردار کو بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

ملکہ رانیا نے کہا کہ ''غیر مذہبی انتہا پسندوں کی ایک حقیر اقلیت سوشل میڈیا کو ہمارے بیانیے کو ازسرنو مرتب کرنے کے لیے استعمال کررہی ہے اور اس نے ہماری اناٹومی کو ہائی جیک کر لیا ہے۔اس وقت عرب دنیا کے ساتھ داعش یہی کچھ کررہی ہے''۔

انھوں نے نشان دہی کی کہ'' داعش کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے عرب دنیا میں تشدد اور تخریب کی جن تصاویر کو پھیلایا جارہا ہے،وہ عربوں کی اکثریت کی عکاسی نہیں کرتی ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ عرب دنیا کی یہ کہانی داعش کا ورژن ہے،ان کا پلاٹ ،ان کا بیانیہ ،ان کے ہیروز ان سب کے بارے میں باقی دنیا سن رہی ہے اور دیکھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اعتدال پسند عربوں کی خاموشی سے داعش کو اپنے مقاصد میں کامیابی ملی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اس سارے عمل میں ایک آئیڈیالوجی کارفرما ہے۔اگر آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ ایک آئیڈیالوجی کو گولی سے شکست دے سکتے ہیں تو پھر دیکھیے کہ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد کیا ہوا ہے۔وہ یقیناً مرچکے ہیں لیکن ان کا ورثہ پہلے سے کہیں زیادہ توانا ہوچکا ہے۔اب انتہا پسند تحریک ایک نیا رُخ اختیار کرچکی ہے۔

اردن کی ملکہ نے کہا کہ ''ہمیں ایک بیانیہ وضع کرنا چاہیے اور اس کو دنیا کے سامنے نشر کرنا چاہیے کیونکہ اگر ہم یہ فیصلہ نہیں کریں گے کہ ہماری شناخت کیا ہے ،ہمارا ورثہ کیا ہے تو پھر انتہا پسند یہ سب کچھ ہمارے لیے کریں گے''۔

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت میں منعقدہ اس تین روزہ میڈیا کانفرنس میں علاقائی اور عالمی میڈیا اداروں سے وابستہ سیکڑوں معروف شخصیات شریک ہیں۔وہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں میڈیا کی صنعت کو درپیش چیلنجز اور اس کی بقاء کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اس میڈیا سمٹ کے چئیرمین خلدون المبارک نے کہا ہے کہ اس کا مرکزی موضوع میڈیا کے لیے مواد،اس کی تقسیم اور مالی وسائل ہے۔انھوں نے تحقیق کی روشنی میں بتایا کہ خطے میں 2019ء تک میڈیا پر اخراجات بڑھ کر چوبیس ارب ڈالرز ہوجائیں گے جبکہ اس وقت یہ رقم سولہ ارب ڈالرز ہے۔