.

فرانسیسی شہری سر قلم کرنے والوں میں شامل

پراسیکیوٹرز کا داعش کی تازہ وڈیو دیکھنے کے بعد خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے پراسیکیوٹرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ داعش کی طرف سے جاری کردہ حالیہ وڈیو میں ایک فرانسیسی شہری بھی شامل ہے جو داعش کے سرقلم کرنے والے دستے میں مبینہ طور پر شامل ہے۔

داعش کی طرف سے جاری کردہ اس نئی وڈیو میں شامی فوجیوں اور ایک امریکی امدادی کارکن کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔پراسیکیوٹرز نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ فرانسیسی شہری داعش کے عسکریت پسندوں میں دوسرے نمبر پر کھڑا تھا۔

فرانسیسی پراسیکیوٹرز کے دفتر کے مطابق ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ داعش کے قصابوں میں کھڑا دوسرا شخص فرانسیسی شہری ہی تھا یا کوئی اور تھا۔

اس حوالے سے نورمنڈے سے تعلق رکھنے والے ایک بائیس سالہ میکسم ہاوچرڈ کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں جسے داعش نے ایک پراپیگنڈا وڈیو میں دکھایا تھا۔ واضح رہے داعش نے یہ ویڈیو اتوار کے روز جاری کی تھی۔

پیر کے روز ایک برطانوی شہری کے والد نے بھی کہا تھا کہ انہوں نے یہ غلط طور پر سمجھ لیا تھا کہ ان کے بیٹے کی داعش کی تازہ وڈیو میں جھلک نظر آئی ہے۔

ستاون سالہ احمد مثنیٰ نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کو بتایا تھا کہ ''جس شخص نے وڈیو میں امریکی شہری پیٹرکاسیگ کی موت کا اعلان کیا تھا وہ میرے بیس سالہ بیٹے ناصر کی طرح لگ رہا تھا۔''

بعد ازاں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس نے کہا '' جب اس وڈیو کو دوبارہ دیکھا تو مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ وہ میرا بیٹا ناصر نہیں ہے۔ ''

احمد مثنیٰ نے مزید کہا '' وڈیو میں نظر آنے والے شخص کی ناک بڑی تھی جبکہ میرے بیٹے کی ناک اٹھی ہوئی نہیں ہے۔''

برطانیہ کے دفتر خارجہ نے اس حوالے سے کسی مفروضے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم دفتر خارجہ اس وڈیو میں نظر آنے والے عسکریت پسندوں کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا ان میں کوئی برطانوی شہری تھا یا نہیں۔