.

فلسطین میں ‌یہودی آباد کاری غیر قانونی ہے:ِ موگرینی

یورپی یونین کے پاس اسرائیل پر اقتصادی پابندیوں کی تجویز زیر غور نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے اسرائیل کےخلاف اقتصادی پابندیوں سے متعلق ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل پر پابندیوں کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ تاہم یونین کی جانب سے مقبوضہ عرب شہروں میں اسرائیل کی آباد کاری کی سرگرمیوں کی پر زور مخالفت کی گئی ہے۔

خبر رساں اداے 'اے ایف پی' کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ تعلقات کی نگران فیڈریکا موگیرینی نے برسلز میں ایک پریس کانفرنس کےدوران کہا کہ یونین کی جانب سے اسرائیل پر پابندیوں کی دستاویز کی تیاری کی خبریں من گھڑت ہیں۔ یورپی برادری اسرائیل پر پابندیوں کی مخالف ہے تاہم فلسطین کے متنازعہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیرو توسیع بھی ناقابل قبول ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیل سے شائع ہونے والے ایک عبرانی اخبار "ہارٹز" نے دعویٰ کیا تھا کہ یورپی یونین نے اسرائیل پر پابندیوں کے لیے ایک دستاویز کی تیاری شروع کی ہے۔

برسلز نیوز کانفرنس کے دوران یورپی یونین کی وزیر خارجہ کے سامنے صحافیوں نے اس خبر سے متعلق سوالوں کی بھرمار کر دی۔ جواب میں موگرینی نے کہا کہ ایسا کوئی منصوبہ سرے سے زیر غور ہی نہیں ‌آیا۔ انہوں‌ نے کہا کہ اسرائیلی اخبار"ہارٹز" میں شائع وہ مضمون میں‌ بھی پڑھا ہے جس میں فلسطین میں غیر قانونی یہودی آباد کاری کے ردعمل میں تل ابیب پر پابندیوں کی تجویز کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ سب فرضی کہانیاں ہیں۔

مسز موگرینی کا کہنا تھا کہ یورپی یونین فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مابین امن بات چیت کی بحالی کے لیے کوشاں ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں‌نے فریقین پر زور دیا کہ وہ امن بات چیت کی راہ میں‌حائل رکاوٹیں دور کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔

یورپی یونین کی وزیر خارجہ نے فلسطینی اراضی ہتھیانے، فلسطینیوں کے مکانات مسمار کرنے اور ان کی جگہ یہودیوں کے لیے کالونیاں بنانے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یورپ اسرائیل کے ان اقدمات کو کسی صورت میں قابل قبول نہیں سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ عرب شہروں میں اسرائیل کی جانب سے تعمیرات غیر قانونی ہیں اور یہ مسئلے کے دو ریاستی حل اور دیرپا قیام امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

یورپی یونین کی وزیر خارجہ کے ردعمل میں اسرائیل نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے عالمی تنقید کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اسرائیل مشرقی بیت المقدس اور مقبوضہ غرب اردن میں یہودی توسیعی سرگرمیاں بند نہیں کرے گا۔