.

برطانوی نژاد دوشیزہ اپوزیشن روابط پر گرفتار ہوئی: ایرانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جوڈیشل حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی نژاد ایک ایرانی دوشیزہ غنچہ قوامی کو گذشتہ جون میں تہران میں اس لیے حراست میں لیا گیا تھا کیونکہ اس کےایرانی اپوزیشن کے بیرون ملک سرگرم گروپوں سے رابطے تھے۔ نیز وہ خود بھی ایرانی حکومت مخالف سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل یہ خبریں آتی رہی ہیں غنچہ قوامی کو 20 جون کو تہران میں حراست میں لینے کی وجہ اس کا ایک والی بال میچ دیکھنے کے لیے گراؤنڈ میں داخلہ بتائی جاتی رہی ہے۔ غنچہ نے مبینہ طور پر ایک دوسرے ملک میں ہونے والے والی بال میچ کے دوران اسٹیڈیم میں جا کر میچ دیکھا تھا۔ اسی الزام کےتحت تہران پہنچنے پر اسے حراست میں لیا گیا تھا۔ حراست میں لینے کے بعد اسے شمالی تہران کی "ایوین" جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

اسیرہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ غنچہ قوامی برطانیہ میں انسانی حقوق کے شعبے میں زیر تعلیم رہی ہے۔ رواں ماہ نومبر کے اوائل میں قوامی کے وکلاء نے بتایا تھا کہ حکومت وقت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے کے الزام میں اس کی مؤکلہ کو ایک سال قید کی سزا ہو سکتی ہے تاہم ایرانی جوڈیشل ذرائع نے اس دعوے کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ فی الحال غنچہ سے تحقیقات جاری ہے۔

گزشتہ روز ایران کی ایک خبر رساں ایجنسی نے یہ خبر دی کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ غنچہ کے بیرون ملک ایرانی اپوزیشن گروپوں کے ساتھ روابط تھے اور وہ ان کے ساتھ مل کر ایران میں ولایت فقہیہ کے نظام کےخلاف سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہے۔ اس کے "بی بی سی" فارسی اور برطانیہ میں‌ مقیم ایرانی اپوزیشن لیڈروں سے بھی مراسم تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غنچہ قوامی کے قبضے سے ملنے والے اس کے ایک موبائل فون سے ویڈیوز اور تصاویر بھی ملی ہیں جن میں ایران کے خلاف فتنہ اور اشتعال پھیلانے کی ترغیب دی گئی ہے۔

گذشتہ ستمبر میں ایران کے ایک عدالتی عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ غنچہ کی گرفتاری کا والی بال اسٹڈیم میں میچ دیکھنے سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم اس نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

خیال رہے کہ بیرون ملک فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے اشاعتی اور نشریاتی اداروں پر ایران میں پابندی عاید کی گئی ہے۔ ایرانی حکومت ان نشریاتی اداروں کو ملک اور نظام حکومت کے خلاف سازش قرار دیتی ہے۔