.

لاکھوں ایرانی شام اور غزہ جانے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام"باسیج" فورس کے سربراہ محمد رضا نقدی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ملک سے لاکھوں افراد شام میں بشارالاسد کے دفاع میں جنگ کے لیے جانے پر تیار ہیں۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی"فارس" کے مطابق جنرل رضا نقدی نے تہران میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایران کی "پاپولر موبلائزیشن فورسز" باسیج کے پرچم تلے لاکھوں افراد شام اور فلسطین کے علاقے غزہ جانے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ "باسیج" وابستہ ارکان کی تعداد 22 ملین سے زیادہ ہے اور یہ سب تربیت یافتہ جنگجو ہیں۔

اپنے ایک دوسرے بیان میں‌"باسیج" فورسز کے سربراہ محمد رضا نقدی نے الزام عاید کیا کہ بغداد میں امریکی سفارت خانہ دولت اسلامی "داعش" کے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے اور داعش کی تمام مرکزی قیادت امریکی سفارت خانے میں موجود ہے۔ انہوں‌نے کہا کہ ایرانی رضاکار عراق جانے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن وہاں پر پہلے سے مقامی رضاکار جنگجوؤں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے، اس کے باوجود اگر انہیں ہماری ضرورت پڑی تو ہم تربیت فراہم کرنے کے لیے ان کی ہرممکن معاونت کریں گے۔

واضح رہے کی "باسیج" فورس ایرانی پاسدارن انقلاب کی ایک نیم سرکاری عسکری تنظیم ہے جسے بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی خود قائم کیا تھا۔ اس تنظیم میں لاکھوں کی تعداد میں مردو خواتین رضاکار اور جنگجو شامل ہیں۔ سنہ 1980ء سے 1988ء تک عراق۔ ایران جنگ کے دوران باسیج فورسز کا کلیدی کردار رہا ہے۔