.

نیویارک ٹائمز کا عربی ایڈیشن شائع کرنے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے موقراخبار نیویارک ٹائمز نے عرب دنیا میں زیادہ رسائی اور خبروں کے رسیا قارئین کے لیے اپنا عربی ایڈیشن شائع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

یہ بات نیویارک ٹائمز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک تھامپسن نے ابوظبی میں منعقدہ میڈیا سمٹ کے موقع پر العربیہ نیوز چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ اس وقت اخبار انگریزی اور چینی زبانوں میں شائع ہورہا ہے اور اس نے آیندہ سال سے مزید عالمی زبانوں میں اشاعت کا تجربہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور عربی بھی ان زبانوں میں شامل ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان زبانوں میں اخبار ویب اور موبائل فون دونوں پر شائع ہوگا اور عربی میں اشاعت کا آیندہ سال سے تجربہ کیا جائے گا۔مارک تھامپسن بی بی سی کے سابق ڈائریکٹر جنرل رہے ہیں اور میڈیا کے شعبے میں وسیع انتظامی اور ادارتی تجربے کے حامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا:''ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ دوسرے پہلوؤں میں بھی دلچسپی کے حامل ہوں گے۔انٹرنیشنل نیوز برانڈز کے حوالے سے مشرق وسطیٰ ایک موقع ہے اور اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے''۔

قبل ازیں انھوں نے ابوظبی میں میڈیا سمٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''میڈیا میں گلوبل رجحانات کے بھی عرب دنیا میں اثرات مرتب ہوں گے۔ان میں اسمارٹ فونز کا بڑے پیمانے پر استعمال سب سے نمایاں ہے''۔

مسٹر مارک نے کہا کہ ''دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح مشرق وسطیٰ میں بھی تیز رفتار موبائل ڈیوائسز اور خاص طور پر اسمارٹ فونز کے ذریعے لوگ خبریں حاصل کریں گے''۔

دا نیویارک ٹائمز مزید زبانوں میں اشاعت کے منصوبے کے باوجود نیوزروم میں ایک سو ملازمتیں ختم کررہا ہے۔گویا صحافتی عملے میں قریباً ساڑھے سات فی صد کمی کی جارہی ہے۔متحدہ عرب امارات میں انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز کی قریباً پچیس ہزار کاپیاں تقسیم ہوتی ہیں۔

اخبار کے اشاعتی اشتہارات سے آمدن میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے لیکن تھامپسن کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود آن لائن بزنس میں اضافہ ہورہا ہے مگر اس تبدیلی کے باوجود پرنٹ شکل میں اخبار کی مانگ مزید کئی سال تک برقرار رہے گی اور اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔