.

"مرسی۔ایردوآن کا مصر کو اخوانی ریاست بنانے کا منصوبہ"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے رہ نما اور معزول صدر محمد مرسی نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ مل کر اخوانی مملکت کے قیام کا منصوبہ بنایا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کے پبلک پراسیکیوٹر نے قاہرہ کی ایک عدالت میں صدر محمد مرسی اور ان کے 35 ساتھیوں کےخلاف جاسوسی کے مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے ڈاکٹر محمد مرسی اور رجب طیب ایردوآن کے مابین رابطے کی ایک آڈیو ٹیپ بھی حاصل کی تھی جسے عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ آڈیو بیان اخوان المسلمون کے مختلف رہ نماؤں کی فون کالز پر مشتمل تھا جس میں انہوں نے ایک دوسرے کو مصر میں اخوانی حکومت کے قیام میں معاونت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ٹیپ کے مطابق: "مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت کے قیام کے بعد ملک کو اخوانی اسٹیٹ بنانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ آڈیو ٹیپ میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کو "قائد اعظم" کا لقب دیا گیا۔"

مصری پراسیکیوٹر جنرل کے مشیر ایڈووکیٹ خالد ضیاء الدین نے عدالت کو بتایا کہ "ووڈا فون" نامی ایک موبائل کمپنی نے محمد مرسی اور رجب طیب ایردوآن کےدرمیان 20 سے 27 جنوری 2011ء کے دوران ہونے والے ٹیلیفون کالز کو ریکارڈ کیا جس میں دونوں نے مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ایڈووکیٹ ضیاء الدین نے بتایا کہ ملزمان کے تین انٹیلی جنس اہلکاروں کے ساتھ بھی رابطے تھے، نیز ان کا بیرون ملک خفیہ اداروں کے ساتھ بھی مکمل رابطہ قائم رہا ہے۔ آڈیو ٹیپ میں سابق صدر محمد مرسی نے یہ مصر کی کسی دوسری جماعت کی جانب سے خفیہ اداروں سے رابطے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا لیکن ان کے ایک مقرب اور مقدمہ میں شریک ملزم احمد عبدالعاطی نے انہیں یقین دلایا کہ کوئی دوسری مذہبی جماعت مذہب کے نام پراپنی مقاصد کے حصول کے لیے بیرون ملک خفیہ اداروں سے رابطے رکھنے کی روا دار نہیں۔

مصری نیشنل سیکیورٹی فورسز کے ایک سابق عہدیدار کرنل محمد مبروک نےبتایا کہ صدر محمد مرسی کی جو آڈیو ٹیپ انہیں موصول ہوئی اس میں اخوان المسلون کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع کا ایک بیان بھی شامل ہے جس میں انہوں نے صدر محمد مرسی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے اور اخوان المسلمون کی حکومت کے قیام کے سلسلے میں مصری انتظامیہ اور فلسطینی تنظیم حماس سے بھی تعاون لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ان سے بھی رابطے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔