.

ایران سے ڈیل کے لیے تمام عناصر پورے ہوچکے:لاروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے تمام عناصر پورے ہوچکے ہیں۔انھوں نے ویانا میں مذاکرات کے دوران اس سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے لچک کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے ماسکو میں سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعودالفیصل کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ حتمی سجھوتے تک پہنچنے کے لیے اب یہ سفارت کاروں کی ذمے داری ہے کہ وہ درست طریقے سے پیکج پیش کریں۔

انھوں نے ویانا میں موجود مذاکرات کاروں پر زوردیا ہے کہ وہ ایک متوازن نتیجے تک پہنچنے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں۔ روسی وزیرخارجہ نے اپنےامریکی ہم منصب جان کیری سے ٹیلی فون پر ایران کے جوہری پروگرام کو طے کرنے کے لیے مجوزہ سمجھوتے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

قبل ازیں جان کیری نے ویانا میں جاری جوہری مذاکرات سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ مجوزہ معاہدے کے لیے مقرر کردہ ڈیڈلائن میں صرف چار روز باقی رہ گئے ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جان کیری پیرس کی جانب چلے گئے ہیں جہاں وہ اپنے یورپی ہم منصبوں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔

امریکا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جان کیری کے مستقبل کے سفری شیڈول کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہےاور ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کب ویانا لوٹیں گے۔درایں اثناء اے ایف پی نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف جوہری تنازعے پر مزید بات چیت کے لیے ابھی ویانا میں قیام کریں گے۔

ادھر برطانوی وزیرخارجہ فلپ ہیمنڈ نے کہا ہے کہ اگر ایران مناسب لچک کا مظاہرہ کرے اور عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے پر متفق ہوجائے تو وہ بہت کچھ حاصل کرسکتا ہے۔

فلپ ہیمنڈ نے مذاکرات کے لیے ویانا آمد کے موقع پر کہا ہے کہ ''ایران کے لیے بھاری قیمت ہوگی ،اس کے منجمد اثاثوں کو بحال کردیا جائے گا۔وہ ایک مرتبہ پھر دنیا کے ساتھ آزادانہ تجارت کرسکے گا اور عالمی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کواز سر نو بحال کرسکے گا''۔

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس نے بھی ایران پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائے۔

انھوں نے کہا کہ ''میں یہاں اچھے سمجھوتے کے لیے آیا ہوں،جو امن اور سلامتی کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ہمیں امید ہے کہ ایران بہتر طور پر جانتا ہے کہ اس سے کیسے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے''۔

برطانوی اور فرانسیسی وزیرخارجہ ویانا میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے حتمی دور میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ان کے علاوہ امریکا ،روس ،چین اور جرمنی کے حکام بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ویانا میں موجود ہیں۔تاہم ان کے درمیان منگل کی ڈیڈلائن تک حتمی معاہدے کا امکان کم نظرآرہا ہے اور مذاکرات میں شریک حکام کا کہنا ہے کہ 26 نومبر کی ڈیڈلائن میں توسیع کی جاسکتی ہے۔