.

تیونسی صدر کو پارلیمنٹ کی تحلیل اور اعلان جنگ کا اختیار مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں مابعد انقلاب جمہوریت رفتہ رفتہ برگ و بار لانے لگی ہے۔ ایک نیا آئین مدون کیا جا چکا ہے اور تمام ریاستی اداروں کے دائرہ کار اور اختیارات کا تعین کر دیا گیا ہے۔ اس سے بھی اہم یہ کہ آئین کے تحت تاریخ مقررہ میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کا انعقاد ہونے لگا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے تیونس کے نئے مرتب کردہ دستور میں صدر مملکت کے اختیارات پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئے دستور میں صدر کو زیادہ با اختیار بنایا گیا ہے۔ صدر ملک کی وحدت اور امن استحکام کی علامت ہیں۔

آئین کے تحت صدر کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے خفیہ رائے شماری سے پانچ سال کے لیے کیا جاتا ہے۔ صدر پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے اور کسی بھی ملک کے خلاف اعلان جنگ یا صلح کا حتمی اختیار رکھتے ہیں۔ تاہم دستور میں وضاحت کی گئی ہے کہ صدر مملکت اپنی آئینی مدت صدارت کے ساڑھے چار سال پورے کر چکے ہوں یا پارلیمنٹ کی مدت میں صرف چھ ماہ کا عرصہ باقی ہو تو اس صورت میں صدر پارلیمنٹ تحلیل نہیں کر سکتے۔ کسی بھی ملک کے خلاف اعلان جنگ سے قبل صدر کی پارلیمنٹ سے مشاورت بھی ضروری ہے۔ اگر پارلیمنٹ کی پانچ تہائی تعداد صلح و یا جنگ میں سے کسی فیصلے کی حمایت کرے تو صدر اس فیصلے کو منظور کرنے کے مجاز ہیں۔

نئے دستور میں تیونسی صدر کو وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد مختلف ممالک میں سفارت کاروں کی تقرری، دفاع، خارجہ تعلقات اور نیشنل سیکیورٹی سے متعلق پالیسیاں جاری کرنے کا بھی اختیار ہے۔ ملک کی داخلی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صدر تنہا فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں۔ اسے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل وزیر اعظم، نیشنل سیکیورٹی کونسل کے چیف، مسلح افواج کے سربراہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر سے بھی مشاورت کرنا ہو گی۔ تاہم ان سب سے مشاورت کے بعد حتمی منظوری کا اختیار صدر مملکت کے پاس ہے۔ جب تک صدر منظوری نہیں دے گا کوئی پالیسی نافذ نہیں ہوسکتی۔

مفتی اعظم اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں

تیونس کے نئے دستور کے آرٹیکل 77 میں قرار دیاگیا ہے کہ ملک کے مفتی اعظم کی تقرری یا برطرفی کا کلی اختیار صدر مملکت کے پاس ہو گا۔ صدر نہ صرف مفتی اعظم کی تقرری کا مجاز ہے بلکہ ایوان صدر اور اس کے زیر انتظام دیگر محکموں کے تمام اعلیٰ عہدیداروں، مسلح افواج کی ہائی کمان کی تقرری، نیشنل سیکیورٹی سے متعلق شعبے کے اہم افسران اور سفارت کاروں کی تقرری بھی صدر کے اختیارات میں شامل ہے۔

صدر مملکت ملک میں ہنگامی حالات کے پیش نظر وزیر اعظم، پارلیمنٹ اور چیف جسٹس کی ہدایت کی روشنی میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا بھی مجاز ہے۔

قوانین کی منظوری

پارلیمنٹ قانون ساز ادارے کی حیثیت سے قوانین بنائے گی مگر کسی بھی قانون کی حتمی منظوری کے لیے اسے صدر مملکت کے پاس بھیجا جائے گا۔ پارلیمنٹ کی جانب سے مجوزہ آئینی بل صدر مملکت کو ارسال کیا جائے گا۔ صدر آئین کو من و عن منظور کر سکتے ہیں اور اس میں مناسب ترمیم کے ساتھ پارلیمنٹ میں دوبارہ بحث کے لیے بھی بھیج سکتے ہیں۔

بین الاقوامی نوعیت کے معاہدوں، شہری آزادیوں، انسانی حقوق، دیوانی نوعیت کے قوانی اور شخصی آزادیوں کے قوانین کی منظوری کا صدر کو خصوصی اختیار حاصل ہے۔