.

شامی وفد روسی صدر پوتین سے ملاقات کرے گا

شامی فریقوں میں امن مذاکرات کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کا اعلیٰ سطح کا ایک وفد روسی صدر ولادی میر پوتین سے آیندہ ہفتے ملاقات کرے گا اور وہ ان سے شامی حزب اختلاف سے امن بات چیت کی بحالی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرے گا۔

شامی وزیرخارجہ ولید المعلم وفد کی قیادت کریں گے اور اس میں صدر بشارالاسد کی مشیر بوثینہ شعبان اور نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد بھی شامل ہوں گے۔روسی صدر پوتین خود دارالحکومت میں اس وفد کا خیرمقدم کریں گے حالانکہ ماسکو میں وزیرخارجہ سرگئی لاروف عام طور پر بیرونی وفود سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔

شامی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے اخبار الوطن کے ایڈیٹر ان چیف وداح عبد ربہ نے کہا ہے کہ اس ملاقات میں ماسکو کی جانب سے شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بات چیت کی بحالی کے لیے پیش کردہ مجوزہ منصوبے کا جائزہ لیا جائے گا۔

الوطن کے مطابق روس ماسکو میں شامیوں کے شامیوں کے ساتھ ڈائیلاگ منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس میں جلا وطن شامی قومی کونسل کے آزاد ارکان کو بلایا جائے گا۔شامی قومی کونسل کے سابق سربراہ معاذالخطیب بھی حزب اختلاف کے وفد میں شامل ہوں گے۔انھوں نے اس سے پہلے 7 نومبر کو روسی وزارت خارجہ میں حکام سے ملاقات کی تھی۔

الوطن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماسکو کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کے مطابق مذاکرات کے نتیجے میں حزب اختلاف کی آزاد شخصیات پر مشتمل شام میں ایک عبوری حکومت قائم کی جاسکتی ہے۔اس کے بعد 2016ء کے اوائل میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوں گے اور ملک کے لیے ایک نیا آئین بھی مرتب کیا جاسکتا ہے۔

ایڈیٹر عبد ربہ کے بہ قول روس کے آئیڈیا کا ایک مقصد جنیوا امن عمل کی بحالی ہے۔اس لحاظ سے فی الوقت روس کا یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں ہے بلکہ جنیوا میں 2012ء میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان شروع کیے گئے امن عمل ہی کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی اور روسی اس منصوبے کی اقوام متحدہ سے توثیق سے قبل شامیوں سے اس پر تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں۔