.

یمن: القاعدہ اور حوثیوں کے مراکز میں سینمائوں کا قیام!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی ٹیکنوکریٹس کابینہ میں شامل جرات مند خاتون وزیر ثقافت نے ملک بھر میں طویل عرصے سے تعطل کا شکار فلمی صنعت کو فعال بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے مگر ساتھ ہی انہوں نے القاعدہ، انصار الشریعہ اور اہل تشیع کے شدت پسند حوثیوں کے زیر اثر علاقوں میں بھی سینمائوں گھروں کے قیام اور تھیٹر سرگرمیاں شروع کرنے کا چیلنج قبول کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ کے مطابق یمنی وزیر ثقافت ارویٰ عثمان نے صنعاء میں میڈٰیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا محکمہ ملک کے تمام اضلاع میں سینما گھر قائم کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ چونکہ یمن میں طویل جنگ کے نتیجے میں فلم انڈسٹری مردہ ہو چکی ہے۔ اس میں جان ڈالنے کے لیے ملک گیر سطح پر کام کی ضرورت ہے۔ اب کی بار وہ جنوبی اور شمالی یمن کے ان شہروں میں سینما قائم کریں گے جہاں پر القاعدہ، حوثی یا دوسرے شدت پسند گروپوں کا غلبہ ہے۔

اروی عثمان کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف البیضاء، شبوۃ، مآرب، ابین جیسے علاقے جہاں القاعدہ اور انصار الشریعہ سرگرم ہیں اور عمران، صعدہ اور الجوف جیسے مقامات جہاں حوثی شدت پسندوں کی عمل داری ہے میں سینمائوں کا قیام ہے۔

یمنی خاتون وزیر نے بتایا کہ سنہ 1960 اور 1980ء کے دوران یمن میں پہلی مرتبہ فلم انڈسٹری کو فروغ پانے کا موقع ملا۔ لیکن وہ بھی نہایت محدود تجربہ تھا۔ اس وقت دارالحکومت صنعاء، تعز، الحدیدہ اور شمال شہر اب میں سینما موجود ہیں اور ان کی سرگرمیاں بھی کسی شکل میں بحال ہیں۔

عدن شہر میں اس سے بھی پہلے برطانوی سامراج نے سینما متعارف کرایا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن میں سنہ 1950ء اور 1960ء کے عرصے کے دوران 49 سینما تھے۔ ان میں سے بیشتر عدن شہر میں تھے۔ باقی شہروں میں سینمائوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ ملک میں آئے روز خراب ہوتی امن وامان کی صورت حال ہی عدن کے سینمائوں کی رونقیں بھی ماند کر دیں۔ لوگوں میں سینما دیکھنے کا شوق رہا اور نہ ہی تھیٹر کے اداکار باقی رہے۔ سینما کی جگہ ملک میں شدت پسند گروپوں نے ڈیرے ڈال دیے اور ہر طرف افراتفری کا عالم بپا کیے رکھا۔