.

برطانیہ: مسلمانوں کے چھ سکول بند ہونے کا خطرہ

اساتذہ اور طلبہ کے نماز کے لیے مسجد جانے پر بھی اعتراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں مسلمانوں کے چھ تعلیمی اداروں کی بندش کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ان تعلیمی اداروں کا نصاب تعلیم برطانوی حکومت کی طے کردہ شرائط کو پورا نہیں کرتا ہے۔

برطانیہ کے انتہا پسندی کے خلاف سرگرم اداروں کے مطابق لندن و دیگر جگہوں پر مسلمانوں کے ان چھ تعلیمی اداروں کا نصاب طلبہ و طالبات کو امکانی طور پر انتہا پسندی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

واضح رہے برطانیہ اپنے ہاں ان مسلمانان تعلیمی اداروں کو اپنی مرضی کا نصآب پڑھانے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں ہے۔

سکولوں کے لیے چیف انسپکٹر سر مائیکل ولشا نے خبردار کیا ہے کہ مذکورہ سکولوں میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات انتہا پسندی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

چیف انسپیکٹر نے اس بارے میں سیکرٹری تعلیم نائیکی مورگان کو ایک باضابطہ خط بھی لکھ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا ہے "طلبہ و طالبات کی جسمانی اور تعلیمی بہبود کو خطرہ ہے۔"

محکمہ تعلیم نے اس خط پر نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ سکولوں کی انتظامیہ سے کہہ دیا ہے کہ "اگر چند ہفتوں میں انسپکٹر سکولز کی شکایات دور نہ کی گئیں تو سکولوں کو بند کر دیا جائے گا۔"

واضح رہے ریڈ کوٹ چرچ آف انگلینڈ سکول کی طرف سے کی گئی انسپیکشن میں بھی یہ سکول مطمئن نہیں کرسکے تھے۔ انسپیکشن کے دوران کئی ایسے طلبہ بھی سامنے آئے ہیں جن کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ اسلامی شریعت کی پیروی کریں گے یا برطانوی قوانین کی پابندی کریں گے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ طالبات کو اس وقت تک اگلے سبق کا انتظار کرنا پڑتا ہے جب تک اساتذہ اور طلبہ قریبی مسجد میں نماز پڑھ کر واپس نہیں آجاتے۔ جبکہ سکولوں میں اسلامی تاریخ کا پڑھایا جانا بھی قابل اعتراض سمجھا گیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے انتہا پسندی کی طرف مائل شہریوں کے عراق اور شام میں جانے کے واقعات کے بعد ایسے شہریوں کی شہریت ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں ایک مسودہ قانون بھی زیر غور آنے والا ہے۔