تیونس: صدارتی انتخابات کے لیے گہما گہمی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیونس میں پہلے آزادانہ انتخابات کے لیے مہم میں تیزی آگئی ہے اور یہ صدارتی انتخاب اب دو سرکردہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ بنتا جارہا ہے۔

تیونس میں صدارتی انتخابات کے لیے اتوار کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں اور ان میں بیس سے زیادہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے لیکن اصل مقابلہ اکتوبر میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں برتری حاصل کرنے والی سیکولر جماعت ندا تیونس کے بزرگ رہ نما الباجی قائد السبسی اور موجودہ صدر منصف مرزوقی کے درمیان ہے۔

تیونس میں عرب بہاریہ انقلاب کے کوئی چار سال کے بعد نئے صدر کا انتخاب آیندہ پانچ سال کے لیے کیا جائے گا لیکن اگر پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار مطلوبہ پچاس فی صد ووٹ نہ لے سکا تو پھر 28 دسمبر کو پہلے اور دوسرے نمبر پر رہنے والے امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہوگا۔

رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق اٹھاسی سالہ الباجی قائد السبسی کو بتیس فی صد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔وہ ملک کا روشن خیال تشخص برقرار رکھنے اور معاشرے کو عرب بہاریہ انقلاب کے منفی پہلوؤں سے بچانے کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں تعلیمی ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کا تسلسل برقرار رکھیں گے۔

واضح رہے کہ تیونس کی بڑی مذہبی سیاسی جماعت النہضہ نے اپنا کوئی صدارتی امیدوار میدان میں نہیں اتارا ہے اور نہ اس نے کسی امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے ملک میں سیاسی انتشار اور تقسیم کو گہرا ہونے سے بچانے کے لیے کسی صدارتی امیدوار کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صدارتی انتخابات کے لیے مہم کے دوران امیدواروں کے حامیوں نے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ زبانی حملے کیے ہیں اور بعض مقامات پر امیداروں کے حامیوں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی ہے۔ الباجی قائد السبسی اور ان کی جماعت نداتیونس نے صدر منصف مرزوقی کے حامیوں پر حملے کرانے کا الزام عاید کیا ہے اور انھیں ٹھگ تک قرار دیا ہے۔

تاہم سیکولر طرز سیاست کے علمبردار منصف مرزوقی نے خبردار کیا ہے کہ الباجی قائد السبسی اگر جیت جاتے ہیں تو ان کی شکل میں سابق رجیم دوبارہ لوٹ آئے گا۔واضح رہے کہ الباجی السبسی سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی اور مابعد آزادی پہلے صدر حبیب بورقیبہ کے دور حکومت میں حکومتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔سابق حکمراں طبقہ ان کی حمایت کررہا ہے جبکہ منصف مرزوقی کو مذہبی سیاسی جماعتوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔

تیونس کے جنوب میں غریب طبقے میں مشہور جماعت پاپولر فرنٹ کے امیدوار حما ہمامی کے بارے میں بھی یہ خیال کیا جارہا ہے کہ وہ نمایاں ووٹوں کے ساتھ ابھر کر سامنے آسکتے ہیں۔ان کی جماعت تیونس کے غریبوں کی بات کررہی ہے اور غریب طبقے میں انھیں بھرپور حمایت حاصل ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ آیندہ حکومت نے اگر چند ہفتوں میں افراط زر پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے تو پھر تیونس غبارے کی طرح پھٹ سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں