.

افغانستان:والی بال میچ کے دوران خودکش دھماکا،45 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا میں والی بال کے میچ کے دوران ایک بمبار نے ناظرین کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے نتیجے میں پینتالیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

صوبہ پکتیکا کے گورنر کے ترجمان مخلص افغان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ضلع یحییٰ خیل میں اتوار کی شام بین الاضلاعی والی بال ٹورنا منٹ کا فائنل میچ کھیلا جارہا تھا اور اس میچ کو دیکھنے کے لیے گراؤنڈ میں سیکڑوں افراد جمع تھے۔اس دوران حملہ آور نے ان کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔وہ پیدل تھا اور اس نے بارود سے بھری جیکٹ پہن رکھی تھی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ'' مرنے اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں اور ان میں بیشتر کی حالت تشویش ناک ہے۔ہمیں ان زخمیوں کو دارالحکومت کابل منتقل کرنے کے لیے مرکزی حکومت کی فوری مدد درکار ہے''۔

یہ اس سال اب تک سب سے تباہ کن بم دھماکوں میں سے ایک ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔اس واقعہ سے چند گھنٹے پیشتر ہی افغان پارلیمان نے ایک سمجھوتے کی منظوری دی ہے جس کے تحت امریکا اور نیٹو کی افواج اس سال کے آخر تک افغانستان میں تعینات رہ سکیں گی۔افغان صدر اشرف غنی نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد اس سمجھوتے کی منظوری دی تھی جبکہ طالبان اور دوسری مزاحمت کار گروپ اس کی مخالفت کررہے ہیں۔

افغانستان کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں میں طالبان مزاحمت کار اور دوسرے جنگجو گروپ افغان سکیورٹی فورسز ،غیرملکی فوجوں اور حکومت کے حامی عام شہریوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔اس صوبے میں طالبان نے گذشتہ تیرہ سال کے دوران اپنی مزاحمتی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں اور نیٹو کی قیادت میں غیرملکی فوج یا افغان فورسز ان کی شورش پسندی کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں ناکام رہی تھیں۔ واضح رہے کہ پکتیکا کی سرحدیں پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے ساتھ ملتی ہیں۔اس علاقے میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز جون سے طالبان جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کررہی ہیں۔