.

تیونس: انقلاب کے بعد پہلے صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے شہری سنہ 2011ء کی عوامی بغاوت کے بعد پہلی بار ملک کا نیا صدر منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ یہ انتخاب ملک میں جمہوریت کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

صدارت کے لیے سامنے آنے والے 27 امیدواروں میں سے سب سے زیادہ ہارٹ فیورٹ امیدوار 87 سالہ سابق وزیر اعظم الباجی قائد السبسی ہیں جن کی سیکولر جماعت ندا تیونس نے پچھلے ماہ پارلیمانی انتخابات میں برتری حاصل کر لی تھی۔

صدارت کی دوڑ میں شامل دیگر افراد میں موجودہ صدر منصف المرزوقی، سابق آمر زین العابدین بن علی کی کابینہ کے متعدد وزراء، بائیں بازو کے رہنما حمہ الھمامی، معروف تاجر سلیم الریاحی اور ایک خاتون مجسٹریٹ کلثوم کنو شامل ہیں۔

ان انتخابات میں تقریبا 53 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جبکہ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے دسیوں ہزار پولیس اور فوج کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔

ملک کے اکثر علاقوں میں پولنگ مقامی وقت صبح آٹھ بجے شروع ہوئی جو 10 گھنٹے بلا تعطل جاری رہنے کے بعد بند ہو جائے گی۔ مگر الجزائر کے ساتھ موجود سرحدی علاقوں میں صرف پانچ گھنٹے تک ووٹنگ کا ٹائم ہو گا۔

اگر کوئی امیدوار ان انتخابات میں واضح اکثریت حاصل نہ کر سکا تو دسمبر کے آخر تک ووٹنگ کا ایک دور ہو گا۔

سنہ 2011ء سے پہلے تیونس میں صرف دو صدر تھے جن میں 1956 کو فرانس سے آزادی کے بعد اقتدار میں آنے والے حبیب بورقیبہ اور 1987 میں انہیں اقتدار سے بے دخل کرکے خود کرسی صدارت سنبھالنے والے بن علی تھے۔

تیونس میں ایک اور آمریت کو روکنے کے لئے نئے آئین کے تحت صدارتی طاقتوں کو سلب کر دیا گیا ہے جبکہ تمام اختیارات پارلیمنٹ کے منتخب کردہ وزیر اعظم کو منتقل کر دیئے گئے ہیں۔

السبسی نے "ریاست کے وقار" کے نام سے مہم چلائی ہے جس کو تیونسی اکثریت نے پسند کرتے ہوئے ان کی پارٹی کو اپنا اعتماد دیا ہے۔

ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صرف وہ ہی ایسے لیڈر ہیں جو کہ بن علی کے بعد طاقت سنبھالنے والے اسلام پسندوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں مگر ناقدین کے مطابق سبسی پرانی حکومت کو بحال کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں کیوںکہ انہوں نے پرانے دونوں صدور کے ماتحت کام کیا ہے۔

مرزوقی کا کہنا ہے کہ وہ واحد لیڈر ہیں جو انقلاب کے ثمرات کو بچا سکتے ہیں اور ان کے مطابق آج ہونے والی ووٹنگ آخری معرکہ ثابت ہو گی۔پارلیمانی انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنیوالی معتدل اسلامی جماعت النہضہ نے اپنا امیدوار نامزد نہیں کیا ہے۔اس نے اپنے کارکنوں کو کہا ہے کہ وہ ایسے امیدوار کو اپنا ووٹ دیں جو جمہوریت قائم کرنے میں مدد دے گا۔

یاد رہے کہ انتخابات میں کامیاب امیدوار کو سب سے پہلے معیشت کا پہیہ ٹھیک کرنا ہو گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے ہوں گے کیوںکہ ابھی بیروزگاری کی شرح 15 فیصد ہے۔